فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مستقل مزاجی نے ٹرمپ کو متاثر کیا: امریکی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکی اخبار سٹریٹجک آؤٹ لک نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مستقل مزاجی نے ٹرمپ کو متاثر کیا ہے۔
اخبار نے لکھا کہ ٹرمپ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی ستائش سے صورتحال بدلنا شروع ہوئی، جنگ بندی پر نریندرمودی کے ردعمل نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مشتعل کیا۔
پاک بھارت جنگ بندی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ردعمل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسا مشتعل کیا کہ امریکی حکومت کی نظر میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان پسندیدہ ملک کا درجہ اختیار کرگیا۔
نریندر مودی جنگ میں پاکستان کو نیچا دکھانا چاہتے تھے، بھارتی طیارے گرنے سے منفی نتائج نکلے، جنگ بندی کے بعد مودی واشنگٹن کا دورہ نہ کرسکے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے لنچ پر بلایا۔
امریکا نے بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دیا، امریکا نے بھارت کو پاکستان میں مداخلت سے باز رہنے کا پیغام دیا، وائٹ ہاؤس کی توجہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی جانب ہے۔
اخبار کے مطابق اکثرہنگامہ خیزی کا شکار خطے میں آرمی چیف عاصم منیر کا احترام ایک ایسے شخص کے طور پرکیا جاتا ہے جو مشکل حالات میں بھی انتہائی پُرسکون اور باصلاحیت رہتے ہیں۔
امریکی اخبار سٹریٹجک آؤٹ لک نے سوال اٹھایا کہ کیا مودی دنیا کےطاقتور ترین شخص سے ٹکرلیں گے؟
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل ٹرمپ کو
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔