پشاور میں فلڈ ریلیف نمائشی میچ آج کھیلا جائے گا، کون کون سے اسٹار کرکٹرز جلو گر ہوں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
پشاور میں سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے کرکٹ کا بڑا ایونٹ آج منعقد ہو رہا ہے۔ عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں پشاور زلمی اور لیجنڈز الیون کے درمیان نمائشی میچ کھیلا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس میچ کا مقصد خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔
کھلاڑی پشاور پہنچ گئےمیچ میں شرکت کرنے والے قومی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ کھلاڑی پشاور پہنچ چکے ہیں۔
The wait is over ⚡
Peshawar Zalmi & Legends XI are ready to create history in the Flood Relief Exhibition Match at Imran Khan Stadium ????️
Be part of the moment, be part of the cause ????
???????????????? ???????? ???????????????????????????? #Zalmi #YellowStorm #ZalmiXLegacy #FloodReliefMatch… pic.
— Peshawar Zalmi (@PeshawarZalmi) August 30, 2025
بابر اعظم، شاہد آفریدی، یونس خان، وقار یونس، انضمام الحق، شعیب اختر، محمد حفیظ اور راشد لطیف سمیت متعدد لیجنڈری کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔
شائقین کرکٹ اس تاریخی موقع پر اپنے ہیروز کو ایک ہی اسٹیج پر دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔
حکومت اور کرکٹ حلقوں کا تعاونخیبرپختونخوا حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اشتراک سے یہ نمائشی میچ منعقد کیا جا رہا ہے۔
???? ???????????? ???????????? ????????????????????, ????????????????????????????????? ????
???? @babarazam258 ???????????????????????????? ???????????? ???????????? ???????????????????????????? ????????????????:
“Fans, it’s time to unite! Our exhibition match is for a noble cause flood relief across KP. Come stand with us in the stadium!” ????
United for Khyber… pic.twitter.com/lH08Jm2ze2
— Peshawar Zalmi (@PeshawarZalmi) August 28, 2025
حکام کے مطابق میچ سے حاصل ہونے والی آمدنی براہ راست ریلیف فنڈز میں شامل کی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچائی جا سکے۔
عوام کی بڑی شرکت متوقعپشاور میں کرکٹ کے اس بڑے ایونٹ کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ شائقین کی بڑی تعداد کے اسٹیڈیم میں آنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
منتظمین کے مطابق یہ میچ صرف کھیل نہیں بلکہ متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انضمام الحق پشاور شعیب اختر عمران خان اسٹیڈیم فلڈ ریلیف نمائشی میچ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انضمام الحق پشاور عمران خان اسٹیڈیم فلڈ ریلیف نمائشی میچ نمائشی میچ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔