پشاور، افغان مہاجرین کی جعلی شناختی کارڈ سازی کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
پشاور:
صوبائی دارالحکومت اور ملحقہ قبائلی اضلاع میں افغان مہاجرین کی جانب سے 1978 کی پالیسی کا سہارا لے کر جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین پرانی تاریخوں میں بنائے گئے مینول شناختی کارڈز، ڈومیسائل، کرایہ نامے، ڈرائیونگ لائسنس اور زمینوں کے جعلی کاغذات جمع کروا کر کارڈ بنوا رہے ہیں۔
افغان مہاجرین کو جعلی شناختی کارڈ کے اجرا کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جدید پرنٹ اور تازہ صفحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دستاویزات جعلی ہیں۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بعض اہلکار اور مقامی انتظامیہ کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی شناختی کارڈ کی تصدیق کی جاتی ہے، جس کے بعد درخواستیں منظور کر لی جاتی ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان جعلی کاغذات کا سائنسی طریقے سے معائنہ کیا جائے اور دستاویزات بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب نادرا حکام کا کہنا تھا کہ شناخت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان نادرا سید شباہت علی کے مطابق پرانے شناختی کارڈ اور دیگر ثبوت کی تصدیق نادرا اور متعلقہ صوبائی حکومت سے کی جاتی ہے تاہم عوام پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے کسی بھی غلط اندراج کی اطلاع دے سکتے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان افغان مہاجرین شناختی کارڈ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔