باجوڑ میں دہشت گردوں کا تھانے پر ڈرون حملہ، اے ایس آئی سمیت 2 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں تھانہ لوئی ماموند پر دہشت گردوں نے ڈرون حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری زخمی ہو گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ہفتہ کے دن دوپہر چار بجے تھانہ لوئی ماموند پر خوارجی دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملہ ہوا جس کے ذریعے تھانے کے صحن پر بم گرایا گیا۔
ڈرون دھماکے کے نتیجے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) محمد حبیب اور ایک سویلین نجیب اللہ ولد محمد زمین سکنہ لغڑئی زخمی ہوگئے۔
زخمیوں کو علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار منتقل کیا گیا جہاں دونوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
اس کے علاؤہ گزشتہ رات گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔
گزشتہ رات کو تحصیل لوئی ماموند کے علاقے گوہاٹی میں آبادی پر ماٹر گولہ لگنے سے ایک شخص شاکر اللہ شہید جبکہ ایک شخص نیاز محمد زخمی ہوگئے۔
زخمی کو علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار منتقل کردیا گیا ہے۔ شہید شاکیر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ دوسرے جانب تحصیل لوئی ماموند کے مختلف علاقوں غاخی، نختر اور گواٹی سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لوئی ماموند
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔