خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں تھانہ لوئی ماموند پر دہشت گردوں نے ڈرون حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک شہری زخمی ہو گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ہفتہ کے دن دوپہر چار بجے تھانہ لوئی ماموند پر خوارجی دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملہ ہوا جس کے ذریعے تھانے کے صحن پر بم گرایا گیا۔

ڈرون دھماکے کے نتیجے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) محمد حبیب اور ایک سویلین نجیب اللہ ولد محمد زمین سکنہ لغڑئی زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار منتقل کیا گیا جہاں دونوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

 اس کے علاؤہ گزشتہ رات گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔

گزشتہ رات کو تحصیل لوئی ماموند کے علاقے گوہاٹی میں آبادی  پر ماٹر گولہ لگنے سے ایک شخص شاکر اللہ شہید جبکہ ایک شخص نیاز محمد زخمی ہوگئے۔

زخمی کو علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار منتقل کردیا گیا ہے۔ شہید شاکیر کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ دوسرے جانب تحصیل لوئی ماموند کے مختلف علاقوں غاخی، نختر اور  گواٹی سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لوئی ماموند

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک