Express News:
2026-06-03@05:13:44 GMT

قومی سلامتی اور دہشت گردی کا چیلنج

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

پاکستان کی قومی سلامتی کا ایک بنیادی نقطہ یہ ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیسے کرنا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی ایک بڑا قومی مسئلہ ہے جو کئی دہائیوں سے درپیش ہے ۔

دہشت گردی کے معاملات کا تعلق داخلی ، علاقائی اور عالمی سیاست سے بھی جڑا نظر آتا ہے ۔دہشت گردی کے معاملات کو قومی ،علاقائی اور گلوبل فریم ورک میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔

ریاست اور حکومت کئی برسوں سے اس اہم نقطہ پر زور دے رہی ہیں کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان کے خلاف نہ صرف پراکسی جنگ لڑی جا رہی ہے بلکہ جو بھی دہشت گرد تنظیمیں ہیں، ان کی سرپرستی اور سہولت کاری بھی ان ممالک سے ہو رہی ہے۔ ہم نے دہشت گردی کی جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ کے خاتمہ میں کافی کامیابیاں بھی ملی ہیں مگر یہ چیلنج بدستور موجود ہے اور ختم نہیں ہو رہا ۔

حالیہ کچھ عرصہ میں صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے تواتر سے ہونے والے واقعات نے ایک بار پھر اس مسئلہ کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ ریاست کی رٹ کو جس انداز سے ان دونوں صوبوں میں دہشت گردوں نے چیلنج کیا وہ واقعی ایک بڑے خطرے کی نشان دہی کرتا ہے۔ دہشت گردی کے تناظر میں کچھ داخلی وجوہات ہیں ۔

ان میں حکومتی اداروں کی غیرفعالیت اور عدم صلاحیت، صوبائی حکومتوں کی ناقص کارکردگی اور جوابدہی کا نظام نہ ہونا ، عدالتی نظام کی کمزوری اور سیاسی اتفاق رائے میں کمی جیسے اہم مسائل موجود ہیں۔اس لیے ہم دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اپنے داخلی مسائل کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔

یہ جو ہم نے نیشنل ایکشن پلان اور قومی سیکیورٹی پالیسی بھی تشکیل دی ہوئی ہے اور معاملات کی نگرانی اور فیصلوں کی شفافیت کے لیے قومی،صوبائی اور ضلعی سطح پر اپیکس کمیٹیاں تشکیل دی ہوئی ہے جس کی سربراہی وفاق اور صوبوں کی سطح پر وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ اور ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ مینجمنٹ جس میں سول اور عسکری اداروں کے سربراہان شامل ہوتے ہیں لیکن ان کی فعالیت اور فوری فیصلوں سمیت عملدرآمد کے نظام میں بہت سی خامیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

اس وقت بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد جدید ہتھیاروں سمیت نئی ٹیکنالوجی بشمول ڈرون کو بھی استعمال کررہے ہیں یعنی اب دہشت گردوں کے پاس بھی ڈرون ٹیکنالوجی موجود ہے ۔وہ اسے دہشت گردی میں اب کھل کر استعمال کررہے ہیں۔یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردوں کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت بڑھی ہے اور اس نے ہماری ریاست کے لیے نئی مشکلات پیدا کی ہیں۔مقامی آبادی میں خوف کی فضا طاری ہے اور مقامی آبادی کو لگتا ہے کہ ان کے لیے غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔

گزشتہ کئی ہفتوں سے خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جن میں ہمارے جوان ،سیکیورٹی فورسز اور مقامی لوگوں کی شہادتیں بھی ہوئی ہیں۔اس لیے دہشت گردی کے واقعات اوراس میں سامنے آنے والے نئے رجحانات چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ اسی طرح مسئلہ محض ٹی ٹی پی ہی نہیں بلکہ نئے اور گروپس بھی مختلف ناموں کے ساتھ میدان میں موجود ہیں جو ریاست کی رٹ کو مختلف انداز میں چیلنج کررہے ہیں۔ یہ ہی صورتحال بلوچستان کی بھی ہے جہاں مقامی سہولت کاری کی وجہ سے دہشت گردی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔وفاقی حکومت اور دونوں صوبائی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کی درمیان بھی رابطہ کاری اور حکمت عملی میں تضاد نظر آتا ہے ۔

باجوڑ آپریشن پر بھی صوبائی حکومت کی ڈھلمل پالیسی اور صوبائی سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی میں تضاد ہے۔ حالیہ عوامی نیشنل پارٹی سمیت پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی مشترکہ کانفرنس یا جرگوں کی سطح پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں بھی صوبہ میں آپریشن کی مخالفت کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی سیاسی اور مذہبی قیادت دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ایشوز کو سنجیدہ نہیں لے رہی ہیں، خود مولانا فضل الرحمن بھی آپریشن کی مخالفت کررہے ہیں۔

ایک بات تو یہ سمجھنی ہوگی کہ دہشت گردی صوبائی مسئلہ نہیں، یہ ایک قومی مسئلہ ہے، دہشت گردی اور انتہاپسندی کا خاتمہ کرنا وفاقی حکومت اور تمام صوبائی حکومتوں کا آئینی و قانونی فرض ہے کیونکہ اگر اس طرز کی دہشت گردی جاری رہتی ہے یا اس میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کا براہ راست اثر مجموعی طور پر پورے پاکستان پر پڑے گا۔ ان ملکوں کی مداخلت کا مقابلہ کرنا اور ان سے نمٹنا اصل چیلنج کے زمرے میں آتا ہے۔حالیہ دنوں میں پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں، بعض حلقے ان ملاقاتوں کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ بہتری کے اشارے قرار دیتے ہیں ، یہ حلقے یہ دعوے بھی کرتے ہیں کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے یقین دلایا ہے کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہوگی۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر ٹی ٹی پی کی دہشت گردی پر مبنی جو بھی کارروائیاں ہورہی ہیں، ان کو روکنے میں مدد ملے گی۔اس لیے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری آنا جہاں دونوں ممالک کے فائدے میں ہے وہیں خطہ کی سیاست میں بھی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔ ان خوش گمان حلقوں کی باتیں یا رائے اس وقت ہی درست قرار دی جاسکتی ہے ، جب افغانستان کے طالبان حکمران اپنے دعوؤں اور وعدوں کو عملی شکل دے کر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا صوبائی حکومت دہشت گردی کے دیکھنے کو کررہے ہیں رہی ہیں ہے اور

پڑھیں:

پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز

لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ  کے وژنری  اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ  نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز  نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔  ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز  کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔  رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم