عافیہ صدیقی کیس؛ جسٹس انعام امین منہاس کا نیا بننے والا بینچ بھی ٹوٹ گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
اسلام آباد:
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی کی سماعت کے لیے بنایا گیا نیا بینچ بھی ٹوٹ گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔
کیس جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت سے ٹرانسفر کیا گیا تھا جس بینچ نے عدالتی حکم عدولی پر وزیراعظم اور کابینہ ارکان کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیے تھے۔
امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی صحت اور وطن واپسی کے لیے ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جانب سے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ لارڈ شپ یہ معاملہ کافی پیچیدہ ہو گیا ہے جس پر عدالت نے کہا کوئی پیچیدہ نہیں ہوا، چیف جسٹس کے ماسٹر آف روسٹر کے حوالے سے میرا فیصلہ موجود ہے۔
عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا میں نے یہ فیصلہ نہیں پڑھا آپ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ماسٹر آف روسٹر ہے؟
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ منیب صاحب کی بھی یہی رائے تھی میں نے بھی وہی فیصلہ دیا ہے۔ میرا فیصلہ ہے ماسٹر آف روسٹر چیف جسٹس ہے، دوسری رائے یہ آئی کہ وہ نہیں ہیں۔ اب دو آرا کی وجہ سے یہ معاملہ لارجر بینچ کو بھیج رہا ہوں۔ ماسٹر آف روسٹر کون ہے یہ لارجر بینچ ہی طے کرے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل یہ کیس جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں زیر سماعت تھا اور ان کے بینچ نے عدالتی حکم عدولی پر وزیراعظم و کابینہ کو توہین عدالت نوٹس جاری کیے تھے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق سے سنگل بینچ کے تمام کیسز واپس لے کر انہیں جسٹس بابر ستار کی سربراہی میں ٹیکس کیسز والے اسپیشل ڈویژن بینچ کا حصہ بنا دیا گیا تھا اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس جسٹس انعام امین منہاس کی عدالت منتقل کر دیا تھا۔
عدالت نے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس انعام امین منہاس عافیہ صدیقی کی لارجر بینچ چیف جسٹس کے لیے نے کہا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔