پنجاب؛ فلڈ ریلیف آپریشن میں جاں بحق اسسٹنٹ کشنر کو اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
لاہور:
پنجاب میں فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران جاں بحق ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد خان کو اعلیٰ سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
فلڈ ریلیف کے لیے فرض منصبی ادا کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے فرقان احمد کے ورثا کو ایک کروڑ روپے گرانٹ بھی دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اے سی فرقان احمد کے لیے اعلیٰ سول ایوارڈ اور ایک کروڑ روپے دینے کی منظوری دے دی۔
اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد خان کینسر مریض ہونے کے باوجود چار دن سے مسلسل فلڈ ریلیف ڈیوٹی کر رہے تھے۔ مرحوم فُرقان احمد خان پتوکی سیلاب زدہ علاقے میں متاثرین کو ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف رہے۔ انہوں نے پتوکی میں سیلاب متاثرین کو خوراک، میڈیسن اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا مسلسل کام کیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مرحوم فرقان احمد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ مشکل ترین حالات میں عوام کی مدد کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے حقیقی ہیرو ہیں۔ فرقان احمد کی فرض شناسی، یاد رکھی جائے گی۔
واضح رہے کہ اسسٹنٹ کمشنر پتوکی فرقان احمد خان گزشتہ روز ریلیف آپریشن کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلڈ ریلیف
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔