سلیکون ویلی میں ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے خاموشی سے میٹا کے کم از کم 14 سے 18 ٹاپ اے آئی انجینئرز کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔

یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب میٹا کے بانی مارک زکربرگ نے انہیں روکنے کے لیے 250 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ریٹینشن پیکجز کی پیشکش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:

میڈیا رپورٹس کے مطابق میٹا نے بعض ریسرچ اسٹارز کو 4 سال کے لیے300  ملین ڈالر تک کی پیشکش کی، اور 24 سالہ نوجوان محقق میٹ ڈائٹکے جیسے نمایاں ٹیلنٹ کو پہلے ہی سال میں 100 ملین ڈالر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔

Many strong Meta engineers have and are joining xAI and without the need for insane initial comp (still great, but not unsustainably high).

Also, xAI has vastly more market cap growth potential than Meta.

And we are hyper merit-based: do something great and your comp can shift…

— Elon Musk (@elonmusk) August 3, 2025

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ماہرین رقم کے بجائے وژن اور اسٹارٹ اپ کلچر کو ترجیح دیتے ہوئے میٹا چھوڑ گئے۔

خود ایلون مسک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ میٹا کے بہت سے مضبوط انجینیئرز ایکس اے آئی جوائن کررہے ہیں، وہ بھی بغیر کسی غیرمعمولی ابتدائی معاوضے کے۔

مزید پڑھیں: ایلون مسک نے ایکس صارفین کو پیسے کمانے کا کونسا نیا طریقہ بتایا؟

’معاوضہ اب بھی اچھا ہے لیکن ناقابلِ برداشت نہیں، ایکس اے آئی کے پاس میٹا کے مقابلے میں کہیں زیادہ مارکیٹ کیپ بڑھانے کی صلاحیت ہے، ہم میرٹ پر مبنی ہیں، کوئی غیرمعمولی کارنامہ سرانجام دیں تو آپ کا معاوضہ بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے۔‘

ٹیک میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک کم از کم 14  انجینئرز نے میٹا کو چھوڑ کر ایکس اے آئی جوائن کیا ہے، جبکہ بعض ذرائع یہ تعداد 18 تک بتا رہے ہیں، یہ سب کچھ مسک کے وژن اور رفتار کو دیکھتے ہوئے ہوا، نہ کہ زکربرگ کی ’مالی پیشکشوں‘ کے باوجود۔

مزید پڑھیں: نازیبا گفتگو کرنے پر میٹا کا ’بے قابو‘ اے آئی چیٹ بوٹ زیرعتاب، انکوائری جاری

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق زکربرگ نے ذاتی طور پر میٹا کی ’سپر انٹیلیجنس لیب‘ کے لیے بھرتی مہم کی کمان سنبھالی اور محققین کو سینکڑوں ملین ڈالر کے معاوضے پیش کیے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ میٹا کے اندرونی ڈھانچے میں بھاری تبدیلیاں، ادارے کے اندر کشیدگی اور تیز رفتاری کے دباؤ نے بھی ماہرین کو بددل کیا، خاص طور پر اس وقت جب ایلون مسک اپنی مقناطیسی شخصیت کے ذریعے انہیں اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انجینیئرز ایکس اے آئی ایلون مسک ڈالر سپر انٹیلیجنس لیب مارک زکربرگ میٹا وال اسٹریٹ جرنل

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایکس اے ا ئی ایلون مسک ڈالر سپر انٹیلیجنس لیب میٹا وال اسٹریٹ جرنل ایکس اے ا ئی ایلون مسک ملین ڈالر میٹا کے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔

امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔

سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔

یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔

آج کے نمایاں کرنسی ریٹس

امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے

ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ