Express News:
2026-07-24@06:17:13 GMT

این ایچ اے سے تین نااہل کمپنیوں کو ٹھیکہ ملنے کا انکشاف

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

اسلام آ باد:

این ایچ اے کی جانب سے کیرک منصوبے کی لاٹ تین نااہل کمپنیوں کو ایوارڈ کرنے کا انکشاف ہوا ہے، قائمہ کمیٹی نے تینوں کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے اور این ایچ اے افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت سینیٹ کی اقتصادی امور کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس میں کیرک منصوبہ زیر بحث آیا۔ این ایچ اے کی جانب سے کیرک منصوبے کی لاٹ 3 نااہل کمپنی کو ایوارڈ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

چیئرمین کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ کمپنی کو کیرک لاٹ ون اور ٹو میں نااہل قرار دیا گیا تھا، کمپنی منصوبوں کیلئے مقرر کرائٹیریا پر پورا نہیں اتر رہی تھی، لودھراں ملتان منصوبے میں بھی کمپنی کو نان پرفارمر ڈکلیئر کیا گیا تھا، پھر اسی نااہل کمپنی کو کیرک لاٹ تھری کیلئے اہل قرار دے دیا گیا حالانکہ کمپنی لاٹ تھری کیلئے کرائریٹیریا پر بھی پورا نہیں اتر رہی تھی۔

سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ این ایچ اے نے موقف اپنایا کہ جو ڈاکومنٹس جمع کرائے گئے انہیں ہی زیر غور لائے، این ایچ اے نے کہا کہ ہم نے سپورٹنگ ڈاکومنٹس نہیں لیے۔

روبینہ خالد نے کہا کہ جنہوں نے کمپنی کے جعلی ڈاکیومنٹس منظور کیے ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟

اعظم سواتی نے کہا کہ کیا این ایچ اے کی بڈ اویلیوایشن اے ڈی بی اسٹینڈرڈ کے مطابق تھی یا نہیں؟ کیا اے ڈی بی نے منصوبے کا پہلے جائزہ لیا تھا یا نہیں؟ بڈنگ پراسیس میں آج تک اتنا بڑا فرق نہیں دیکھا، بڈنگ پراسیس میں 10 سے 15 فیصد کا فرق تو سمجھ میں آتا ہے، یہاں تو بڈنگ پراسیس میں 70 سے 125 فیصد تک فرق آ رہا ہے، کوئی کمپنی کہے کہ میں نے پورا بیجنگ بنایا ہے کیا آپ جا کر اس کا کام نہیں دیکھیں گے؟

روبینہ خالد نے کہا کہ کیا تصدیق کر سکتے ہیں کہ این ایکس سی سی چین کی سرکاری کمپنی ہے یا نجی؟ این ایچ اے حکام نے کہا کہ ہم یہ کنفرم نہیں کرسکتے، ہمارے علم میں نہیں ہے۔

روبینہ خالد نے کہا کہ پہلے یہ تو کنفرم ہونا چاہیے نا کہ کمپنی چائنہ کی سرکاری ہے یا پرائیویٹ؟ اگر یہ سرکاری کمپنی ہے تو پھر چینی حکومت سے شکایت کرنی چاہیے، آپ چین کی ایمبیسی کو نہ لکھیں ویسے ہی ان سے کنفرم کر لیں۔

سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اس ایک منصوبے کیلئے ہم نے اتنے ڈاکومنٹس منگوائے ہیں کہ کمرے بھر گئے ہیں۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ میرے خیال میں آخر تک ہمارے پاس دو یا ڈھائی لاکھ روپے کی ردی جمع ہو جائے گی۔

سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اے ڈی بی کی کلاز ہے کہ نان پرفارمر کمپنی کو منصوبہ ایوارڈ نہیں ہوگا، این ایچ اے قواعد کے مطابق کمپنی قانونی چارہ جوئی میں ملوث نہ ہو،  یہ کمپنی تو قانونی چارہ جوئی میں بھی ملوث تھی۔

قائمہ کمیٹی نے جعلی ڈاکومنٹس جمع کرانے والی چینی کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کردی۔ کمیٹی نے این ایکس سی سی اور اس کے مقامی جے وی پارٹنرز کو جعلی قرار دینے کی بھی سفارش کی اور جعلی ڈاکومنٹس جمع کرانے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کاروائی کی ہدایت کردی، کمیٹی نے ساتھ ہی جعلی ڈاکومنٹس پر منظوری دینے والے این ایچ افسران کے خلاف بھی کاروائی کی سفارش کردی۔

کمیٹی نے اپنے حصص سے زیادہ رقم لینے والی کمپنیوں سے ریکوری کی بھی ہدایت کی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ  دو کمپنیوں کے حصص 35 فیصد تھے انہوں نے 100 فیصد کے برابر رقم لے لی، ایسے افسران کے خلاف ایسی کارروائی کی جائے کہ آئندہ کسی کی جرأت نہ ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نااہل کمپنی ایچ اے کمپنی کو کمیٹی نے کے خلاف

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف