WE News:
2026-06-03@06:09:15 GMT

پاکستان اور بحرین کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT

پاکستان اور بحرین کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور بحرین نے دفاعی تعاون بڑھنے پر اتفاق کیا ہے، دونوں ممالک کی ایئرفورس کی مشترکہ تربیت اور نالج شیئرنگ کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔

ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پیر کے روز بحرین کی ڈیفنس فورس کے چیف آف اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل تھیاب صقر عبداللہ النعیمی نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کے دورے کے دوران سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور اور مشترکہ تعاون کے فروغ کے لیئے نئی راہیں استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔  سربراہان نے باہمی شراکتداری کے ذریعے دونوں ممالک کی افواج کے مابین، مشترکہ تربیت اور باہمی ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ نے رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو شو 2025 میں شاندار کامیابیاں اور عالمی اعزازات سمیٹ لیے

لیفٹیننٹ جنرل تھیاب صقر عبداللہ النعیمی کی آمد پر پاک فضائیہ کے ایک چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

ائیر چیف نے معزز مہمانوں کا شاندار استقبال کرتے ہوئے اس امر پر روشنی ڈالی کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ مذہبی اور تاریخی روابط استوار ہیں جو دونوں ممالک کی افواج کے مابین لازوال تعلقات کا مظہر ہیں۔ ملاقات کے دوران، سربراہ پاک فضائیہ نے دوطرفہ عسکری تعاون، مشترکہ تربیت اور علمی استفادہ حاصل کرنے کے لیئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے مضبوط سفارتی اور دفاعی تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین علاقائی امن، سلامتی اور استحکام  سے متعلق تمام اہم امور میں ہم  آہنگی پر مبنی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سب سے بڑی عالمی فضائی مشق ’انڈس شیلڈ‘ میں 14ممالک کی شرکت

معزز مہمان نے پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہتے ہوئے پاک فضائیہ کی جانب سے خودانحصاری اور تکنیکی ترقی کے ذریعے حاصل کردہ نمایاں پیش رفت کی تعریف کی۔ بحرین کی فضائیہ کی آپریشنل استعدادکار بڑھانے کے حوالے سے ملٹی ڈومین آپریشنز میں علمی تعاون کی اہمیت کا احاطہ کرتے ہوئے معزز مہمان نے پاک فضائیہ کے بھرپور آپریشنل تجربے سے استفادہ حاصل کرنے اور  ملٹی ڈومین وارفیئر سے متعلق  تربیت کے حصول کی اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کیا۔

دورے کے دوران سربراہان نے بحرین کے پائلٹس اور انجینیئرز کے لیے جامع اور مشترکہ تربیتی پروگرامز کے آغاز  میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔ بحرین ڈیفنس فورس کے چیف آف سٹاف  نے پاک فضائیہ کی جانب سے خودانحصاری کے حصول کے لیئے جاری کوششوں کو سراہتے ہوئے جدت طرازی اور جدید مقامی صلاحیتوں کی ترقی میں نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے کلیدی کردار کا اعتراف کیا۔ بعد ازاں، معزز مہمان نے نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر اور پی اے ایف سائبر کمانڈ کا دورہ کیا، جہاں انہیں پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آئیڈیاز 2024: پاکستان کی دفاعی قوت اور شراکت داری کے نئے دور کا آغاز

سربراہ پاک فضائیہ اور بحرین ڈیفنس فورس کے چیف آف سٹاف،  کے مابین ہونے والی یہ ملاقات دونوں ممالک کی جانب سے عسکری شراکت داری اور موجودہ تعلقات کو فروغ دینے کے دوطرفہ عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اسلام اباد ایئرفورس بحرین پاک فضائیہ پاکستان دفاعی تعاون لیفٹیننٹ جنرل تھیاب صقر عبداللہ النعیمی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اسلام اباد ایئرفورس پاک فضائیہ پاکستان دفاعی تعاون دونوں ممالک کی پاک فضائیہ کے مشترکہ تربیت فضائیہ کی اور بحرین کے دوران کے مابین بحرین کے عزم کا

پڑھیں:

بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک

اسلام ٹائمز: بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ تحریر: علی احمدی
 
خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع عرب ریاستوں خاص طور پر بحرین اور متحدہ عرب امارات میں اہل تشیع شہریوں کے ساتھ عرب حکمرانوں کا امتیازی سلوک اپنے عروج پر جا پہنچا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اپریل کے وسط میں اچانک ہی 15 ہزار اہل تشیع پاکستانی مہاجرین کو ملک بدر کر دیا جو وہاں مختلف شعبوں میں کام کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو گذشتہ چند دہائیوں سے وہاں مقیم تھے اور محنت مزدوری میں مصروف تھے۔ انہیں بغیر کسی جرم کے گرفتار کیا گیا اور ان کے بینک اکاونٹس بند کر دینے کے بعد خالی ہاتھ وطن واپس بھیج دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں اور سرگرم اراکین نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر امتیازی سلوک کا واضح مصداق قرار دیا ہے اور اسے خطے میں جاری جنگ اور پاکستان کی جانب سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے فعال کوششوں اور کردار سے مربوط جانا ہے۔
 
دوسری طرف بحرین میں بھی اگرچہ مقامی آبادی کی اکثریت اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن حکمفرما آل خلیفہ خاندان شیعہ شہریوں سے بدترین امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ آل خلیفہ حکمرانوں نے سرکاری سطح پر اہل تشیع کو تمام اہم اور اعلی سطحی حکومتی مناصب سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ شیعہ شہری کسی بھی اہم حکومتی، سیکورٹی یا اقتصادی عہدے پر فائز نہیں ہو سکتے اور یوں ان سے دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک جاری ہے۔ شیعہ شہریوں کو مذہبی رسومات جیسے عزاداری وغیرہ کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے، امام بارگاہیں اور شیعہ مساجد بند کر دی گئی ہیں جبکہ بڑی تعداد میں شیعہ بحرینی شہریوں سے ایران کی حمایت جیسے بے بنیاد الزام اور بہانے کے ذریعے شہریت واپس لے لی گئی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
 
ظالم و جابر حکومت
حالیہ جنگ میں امریکی صیہونی محاذ کی اسلامی جمہوریہ ایران کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد بحرین پر حکمفرما آل خلیفہ رژیم نے صیہونی مہرہ ہونے اور غاصب صیہونی رژیم سے وفاداری کا پورا ثبوت دیتے ہوئے مئی کے آخر سے شیعہ شہریوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آل خلیفہ رژیم کے ہرکارے رات کے وقت شیعہ علماء کے گھرون پر وحشیانہ انداز میں کریک ڈاون کر رہے ہیں اور اب تک دسیوں شیعہ علماء کو گرفتار کر لیا ہے جن میں دو معروف عالم دین شیخ محمد سنقور اور شیخ علی الصدیقی بھی شامل ہیں۔ بحرینی حکام نے ان افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے رابطے میں تھے۔ اسی طرح آل خلیفہ رژیم نے دسیوں شیعہ بحرینی شہریوں کی شہریت بھی ختم کر دی ہے۔ اہل تشیع کے مذہبی مقامات پر شدید قدغن لگا دیا گیا ہے اور 400 سے زائد شہریوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
 
ان ظالمانہ اور آمرانہ اقدامات کے جواب میں بحرین کے شیعہ علماء نے بیانیہ جاری کیا جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ شیخ عبداللہ الدقاق اور دیگر اسیر یا جلاوطن شیعہ علماء نے آل خلیفہ رژیم کے ظالمانہ اقدامات کو بحرین کے شیعہ اور اسلامی تشخص کے وجود کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ اسی طرح بحرین کے مختلف حصوں میں کفن پوش مظاہرے بھی منعقد ہوئے ہیں اور شیعہ برادری نے ان اقدامات کو آل خلیفہ کی فرقہ وارانہ اور امتیازی سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ علماء نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے ظالمانہ اقدامات ہر گز انصاف کے لیے اٹھنے والی آواز خاموش نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بنیادی وجہ آل خلیفہ رژیم کے دل میں شیعیان اہلبیت علیہم السلام سے پایا جانا والا خوف اور وحشت ہے۔
 
اسلام سے غداری
بحرین اور متحدہ عرب امارات پر حکمفرما عرب شہزادوں نے 2020ء میں ابراہیم معاہدے میں شامل ہو کر اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم سے سفارتی تعلقات بحال کیے تھے اور یوں انہوں نے اسلام سے غداری کرتے ہوئے امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا تھا۔ ان کا یہ اقدام ایسے حالات میں انجام پایا تھا جب غاصب صیہونی رژیم نے مقبوضہ فلسطین، جنوبی لبنان اور گولان ہائٹس پر غاصبانہ قبضہ جما رکھا تھا۔ یہ اقدام درحقیقت اپنے اقتصادی مفادات کو امت مسلمہ کے وقار اور خودمختاری پر ترجیح دینے کا واضح مصداق ہے۔ بحرین اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اسرائیل سے اتحاد تشکیل دے کر امت مسلمہ کی وحدت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس معاہدے کے بعد اگرچہ صیہونی حکمرانوں نے غزہ میں لاکھوں بیگناہ فلسطینیوں کا قتل عام کیا لیکن بحرین اور امارات اب بھی اسرائیل کے اتحادی بنے بیٹھے ہیں۔
 
بحرین اور متحدہ عرب امارات نے غزہ جنگ میں غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینیوں کی وحشیانہ نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کے ارتکاب کے باوجود اب تک اس سے تجارتی اور سیکورٹی تعاون بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحرینی اور اماراتی حکمرانوں کو مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر اسلام اور امت مسلمہ کے دیرینہ دشمن سے اتحاد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ اور آل نہیان رژیموں نے صیہونزم اور صیہونی رژیم سے متحد ہو کر امت مسلمہ کے خلاف نیا محاذ کھول رکھا ہے۔ ایک طرف مقبوضہ فلسطین میں کروڑوں فلسطینی ظالمانہ محاصرے کا شکار ہیں اور اسرائیل مسلسل غیر قانونی طور پر یہودی بستیوں میں توسیع کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوا ہے جبکہ دوسری طرف بحرین اور امارات کے حکمران اس سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ