نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں حالیہ زلزلے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے زلزلے کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن انسانی و طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
نائب وزیراعظم نے افغان عوام کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا بھی اظہار کیا۔
اس سے پہلے خیبرپختونخوا اسمبلی نے بھی افغانستان میں زلزلے سے ہونے والے جانی نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ قرارداد منظور کی۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ شدید زخمی افغان شہریوں کو بغیر ویزا پاکستان منتقل کیا جائے تاکہ انہیں فوری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
صوبائی اور وفاقی حکومتیں باہمی تعاون سے امدادی ٹیمیں اور ضروری طبی سامان افغانستان بھجوائیں۔
یاد رہے کہ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں گزشتہ رات آنے والے 6 شدت کے زلزلے نے شدید تباہی مچائی ہے۔ اب تک 800 سے زائد افراد جاں بحق اور 1000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ متعدد افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار