Express News:
2026-06-03@07:01:46 GMT

وزیراعظم کا ایس سی او کانفرنس سے خطاب

اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT

دنیا ان ممالک کے جھوٹے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتی جو سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی کو استعمال کرتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں، اور ان جرائم کے ذمے داروں و سہولت کاروں کو جواب دہ ہونا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 25 ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دوسری جانب ایس سی او کانفرنس میں جعفر ایکسپریس اور خضدار میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی گئی، اس سے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے مؤقف کی تائید ہوئی ہے۔

 وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 ویں سربراہان مملکت کونسل اجلاس میں خطابکے دوران نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مختلف زاویوں کو اجاگر کیا بلکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، دہشت گردی کے خطرات اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے سفارتی رجحانات پر پاکستان کے مؤقف کو بھی واضح انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اس خطاب کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ یہ ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم پر دیا گیا، بلکہ اس میں جو باتیں کی گئیں، وہ پاکستان کے داخلی اور خارجی مسائل کی گہرائی سے عکاسی کرتی ہیں۔

 وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ دنیا ان ممالک کے جھوٹے بیانیے کو تسلیم نہیں کرتی جو سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی کو استعمال کرتے ہیں، ایک دوٹوک پیغام ہے۔ اس بیان کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے حساس خطے دہشت گرد حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں، جن میں قیمتی انسانی جانیں ضایع ہوئیں اور ملک کی معیشت اور سماجی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ ان حملوں کے پس پردہ عناصر کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے واضح کیا کہ ایسے واقعات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے اور اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

یہ بات پاکستان کئی بار مختلف عالمی فورمز پر دہرا چکا ہے کہ اسے غیر مستحکم کرنے کے لیے بعض علاقائی قوتیں دہشت گرد گروہوں کو مالی و مادی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ تاہم، دنیا کا عمومی رویہ ماضی میں اس حوالے سے سرد رہا ہے، لیکن اب وزیر اعظم کی طرف سے یہ بات کہی گئی کہ دنیا اب ان ’’ جھوٹے بیانیوں‘‘ کو قبول نہیں کر رہی، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور عالمی رائے عامہ اب اس حقیقت کی طرف متوجہ ہو رہی ہے کہ دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

بلاشبہ دہشت گردی کے ذمے داروں اور ان کے سہولت کاروں کو جواب دہ ہونا ہوگا، ایک سخت لیکن برحق موقف ہے۔ اس موقف کا مقصد صرف عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک واضح پیغام دینا ہے کہ پاکستان اپنے داخلی سلامتی کے معاملات میں اب مزید بیرونی مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بیان عالمی برادری سے ایک اخلاقی اپیل بھی ہے کہ وہ اس دہرے معیار کو ترک کریں جس کے تحت بعض دہشت گرد گروہوں کو ’’مفید اثاثے‘‘ سمجھا جاتا ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شہباز شریف کی تقریر ایک اور اہم پہلو لیے ہوئے تھی، وہ تھا چین کے کردار کی ستائش اور پاکستان کا SCO کے ساتھ عزم۔ تیانجن شہر میں موجودگی کو باعث فخر قرار دینا، اور اسے تہذیبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والا مقام کہنا دراصل پاکستان کی اُس پالیسی کا عکاس ہے جس میں سفارت کاری کو تناؤ کم کرنے اور امن بڑھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان دوستی کو عالمی سطح پر ایک مضبوط تعلق سمجھا جاتا ہے، اور اس فورم پر چین کی قیادت کو سراہنا اس تعلق کی مزید گہرائی کا اظہار ہے۔

چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں نہ صرف اقتصادی ترقی کی بلندیوں کو چھوا بلکہ عالمی سطح پر ایک متبادل سفارتی اور اقتصادی ماڈل بھی پیش کیا ہے۔ چین کا ’’ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘‘ ہو یا ’’ گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو‘‘ پاکستان ان تمام اقدامات میں ایک اہم شراکت دار ہے۔ ایسے میں SCO جیسے پلیٹ فارم پر چین کی قیادت کو سراہنا دراصل پاکستان کے اس وژن کا اظہار ہے کہ وہ خطے میں چین کے ساتھ مل کر استحکام، ترقی اور باہمی تعاون کی راہ پرگامزن رہنا چاہتا ہے۔

  اجلاس میں بیلا روس کے صدر کی موجودگی کا ذکر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان علاقائی سیاست میں تنوع اور نئے روابط کو اہمیت دیتا ہے۔ عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی آ رہی ہے اور ایسے وقت میں نئے اتحاد اور روابط نہ صرف ضروری ہیں بلکہ ناگزیر بھی۔ پاکستان کی اس پالیسی سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ وہ صرف مغربی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود مختار، خود اعتمادی پر مبنی اور متنوع خارجہ پالیسی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

وزیر اعظم کی تقریر کا سب سے اہم پہلو وہ اصولی مؤقف تھا جس میں کہا گیا کہ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ انھوں نے ان ’’ سرخ لکیروں‘‘ کا ذکر کیا جنھیں کوئی بھی مہذب قوم پار نہیں کرتی۔ یہ دراصل ایک عالمی اصول ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر میں بھی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، لیکن افسوس کہ عالمی سطح پر طاقتور اقوام اکثر ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتی رہی ہیں۔

پاکستان کا یہ مؤقف دراصل ان دہرے معیارات کے خلاف ایک خاموش احتجاج بھی ہے اور ایک اصولی اپیل بھی۔ بظاہر یہ بیان سننے میں تو سفارتی معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک گہری فکر موجود ہے کہ عالمی امن صرف اس وقت قائم رہ سکتا ہے جب طاقتور ممالک بھی قوانین کا احترام کریں، اگر طاقتور اپنی مرضی کو قانون کا درجہ دے دیں تو دنیا میں انتشار بڑھے گا اور اقوامِ عالم کا اعتماد عالمی اداروں پر ختم ہو جائے گا۔

پاکستان کے لیے یہ بیان اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس وقت خطے میں بھارت کے ساتھ کشیدگی، افغانستان میں غیر یقینی صورتحال، اور ایران و عرب ممالک کے ساتھ نئے سفارتی چیلنجز موجود ہیں۔ ان تمام معاملات میں پاکستان نے ہمیشہ اصولوں پر مبنی پالیسی اپنائی ہے، چاہے وہ کشمیر کا مسئلہ ہو یا فلسطین کا۔ پاکستان کی یہی اصولی پالیسی اب ایک نئے عالمی منظر نامے میں زیادہ نمایاں ہو رہی ہے جہاں چھوٹے ممالک بھی اپنی خود مختاری کا تحفظ چاہتے ہیں۔

ایک اور قابلِ ذکر پہلو پاکستان کی کثیر الجہتی سفارت کاری پر یقین ہے، چونکہ پاکستان ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری کی طاقت پر یقین رکھتا ہے۔ یہ دراصل اس سوچ کی نمایندگی کرتا ہے جو پاکستان کو جنگ سے نہیں، بلکہ بات چیت سے مسائل حل کرنے پر قائل کرتی ہے۔ پاکستان نے دنیا کو بارہا یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایک ذمے دار ایٹمی ریاست ہے جو جنگ کی نہیں، امن کی خواہاں ہے۔ یہ پیغام خاص طور پر ان قوتوں کے لیے ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پروپیگنڈہ اور معاشی دباؤ کا استعمال کرتی ہیں۔

آج جب دنیا ایک نئی سرد جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں امریکا، چین، روس اور یورپ کے درمیان مختلف اقتصادی و سفارتی کشمکش جاری ہے، ایسے میں پاکستان کی غیر جانبدار لیکن اصولی پالیسی نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان کا یہ عزم کہ وہ کسی کیمپ سیاست کا حصہ نہیں بنے گا، بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے پل کا کردار ادا کرے گا، وقت کی ضرورت ہے۔وزیر اعظم کا خطاب اس لحاظ سے بھی قابلِ تعریف ہے کہ اس میں امید، خود اعتمادی اور آیندہ کے لیے ایک مثبت لائحہ عمل تھا۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا ذکر ضرور ہوا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا حل بھی پیش کیا گیا۔ علاقائی تعاون، بین الاقوامی قانون کا احترام، کثیرالجہتی نظام کی حمایت اور ترقیاتی اقدامات میں شمولیت۔ یہی وہ مثبت طرزِ فکر ہے جو آج کے پاکستان کی ضرورت ہے۔

 ماضی میں پاکستان کو صرف سلامتی کے تناظر میں دیکھا جاتا تھا، لیکن آج پاکستان عالمی تعاون، اقتصادی ترقی اور امن کے قیام میں ایک سنجیدہ شراکت دار بن کر سامنے آ رہا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک خوش آیند موڑ ہے بلکہ داخلی سطح پر بھی استحکام کی علامت ہے۔ پاکستان کا دہشتگردی کے خلاف واضح مؤقف، خود مختاری اور سالمیت کا اصولی دفاع، چین اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی، اور عالمی سطح پر کثیرالجہتی تعاون کی وکالت موجود تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ خطاب میں وہ نکتہ بھی نمایاں تھا کہ پاکستان اب صرف ردِعمل کی سیاست نہیں کرے گا، بلکہ متحرک، فعال اور اصولی خارجہ پالیسی کے ذریعے عالمی نظام میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہے کہ پاکستان خارجہ پالیسی عالمی سطح پر پاکستان کی پاکستان کے شہباز شریف پاکستان کو پاکستان کا کہ عالمی ممالک کے ہے کہ وہ کے ساتھ نہیں کر گردی کے لیکن ا کا ذکر رہی ہے کے لیے کرے گا رہا ہے

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ