مغربی سوڈان میں خوفناک لینڈ سلائیڈنگ: ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک، باغی گروپ کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
مغربی سوڈان کے دور دراز علاقے مَرّا پہاڑوں میں شدید بارشوں کے بعد آنے والی ہولناک لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا دی۔ سوڈان لبریشن موومنٹ/آرمی (SLM/A) کے مطابق اس سانحے میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پورا گاؤں ترسین مٹی اور پتھروں کے نیچے دب گیا۔ باغی گروپ کا کہنا ہے کہ حادثے میں صرف ایک شخص زندہ بچ سکا ہے۔
باغی گروپ کی اپیل
سوڈان لبریشن موومنٹ نے اپنے بیان میں اقوام متحدہ، علاقائی تنظیموں اور عالمی اداروں سے فوری انسانی امداد کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ علاقے میں متاثرین کو خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی اشد ضرورت ہے۔
خانہ جنگی سے بے گھر افراد متاثر
مَرّا پہاڑ وہ خطہ ہے جہاں ہزاروں لوگ سوڈانی فوج اور نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے پناہ لے چکے تھے۔ یہ لوگ پہلے ہی بے گھر، بھوک اور بدامنی کا شکار تھے، اور اب لینڈ سلائیڈنگ نے ان کی مشکلات کئی گنا بڑھا دی ہیں۔
سوڈان کی بگڑتی صورتحال
یاد رہے کہ اپریل 2023 سے شروع ہونے والی خانہ جنگی نے سوڈان کو قحط سالی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ صرف مغربی دارفور میں نسل کشی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ہلاکتوں کے اعداد و شمار مختلف ہیں، لیکن ایک امریکی عہدیدار کے مطابق پچھلے سال تک 1.
نئی پیش رفت
باغی گروپ کے مختلف دھڑوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آر ایس ایف کے خلاف سوڈانی فوج کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے اس سانحے نے پہلے سے جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لینڈ سلائیڈنگ باغی گروپ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔