لاہور (نیوز ڈیسک) صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں پانچ ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

ذرائع کے مطابق گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ تین ستمبر تک دریاؤں کے بالائی حصوں میں بارشوں کا امکان ہے، جس سے لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات میں اربن فلڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

دریائے چناب کی صورتحال

دریائے چناب میں تباہ کاریاں جاری ہیں۔ طوفانی ریلے جھنگ تک جا پہنچے جس سے دو سو سے زائد دیہات زیر آب آ گئے۔ مظفر گڑھ کے قریب پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ چنیوٹ کی تحصیل بھوانہ میں کئی بستیاں ڈوب چکی ہیں جبکہ شجاع آباد میں فصلیں متاثر ہوئیں۔ تریموں ہیڈ ورکس سے آٹھ سے نو لاکھ کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جس سے مزید چار سو دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری۔ عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ایمرجنسی کی صورت میں ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کرنے کی ہدایت۔”#PDMAPunjab #FloodAlert #Punjab #StaySafe #EmergencyPreparedness pic.

twitter.com/yS1zwaltxr

— PDMA Punjab Official (@PdmapunjabO) September 1, 2025

ستلج اور بھارتی پانی کا اخراج

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے ستلج میں بھی خطرناک صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ اس سے قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر اور پاکپتن متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق وہاڑی، لودھراں، بہاولپور اور ملتان میں بھی صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔ نیناکوٹ پر پانی چھوڑنے کے بعد ریلا جسڑ اور شکرگڑھ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

دریائے راوی کا منظر

دریائے راوی میں ماڑی پتن کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہو گئی ہے۔ ہیڈ بلوکی اور سدھنائی کے مقام پر بھی بڑے آبی ریلے داخل ہو چکے ہیں۔ ساہیوال کے اورنگ آباد میں بند ٹوٹنے سے کئی دیہات ڈوب گئے۔

پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ اور شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ جانی اور مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے

پڑھیں:

بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے

تصویر سوشل میڈیا۔

پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ 

لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔  

لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا

بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ 

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب