غزہ میں صحافیوں کے قتل پر عالمی میڈیا کا بلیک آؤٹ، 70 ممالک کے 250 ادارے احتجاج میں شریک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
اسرائیلی فوج کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کے خلاف دنیا بھر میں طاقتور احتجاج سامنے آیا ہے۔
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر (RSF) اور عالمی تنظیم آواز (Avaaz) کی اپیل پر 70 ممالک کے 250 میڈیا اداروں نے اپنے فرنٹ پیجز، ویب سائٹس اور نشریات کو بلیک آؤٹ کردیا۔
رپورٹ کے مطابق تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر میڈیا اداروں نے مشترکہ طور پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں صحافیوں پر بڑھتے حملوں کے خلاف دنیا کی توجہ مبذول کرانا ہے۔
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، میڈیا کو آزاد رسائی دی جائے اور اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے جرائم فوری طور پر روکے جائیں۔
احتجاج میں قطر، فرانس، برطانیہ، جرمنی، فلسطین، جنوبی کوریا، اسپین اور اٹلی سمیت کئی ممالک کے بڑے اخبارات، ٹی وی چینلز اور آن لائن پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
اس دوران ٹی وی اور ریڈیو چینلز مشترکہ بیان نشر کریں گے جب کہ ویب سائٹس اپنے ہوم پیجز پر بلیک آؤٹ یا یکجہتی بینرز لگائے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو سال میں اسرائیلی حملوں کے دوران 220 صحافی شہید اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔