پاکستان اور تاجکستان کا تجارت، علاقائی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے درمیان بیجنگ میں ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، رابطہ کاری، علاقائی سلامتی، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی سطح پر مشترکہ دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس سے پہلے وزیراعظم شہباز شریف کی چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر خزانہ کی بیجنگ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، پاک چین مالی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق
وفود کی سطح پر ہونے والی اس ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چینی صدر نے دنیا بھر میں 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، بیلٹ اینڈ روٹ اینیشی ایٹیو اس کی واضح مثال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام چین کی دوستی کو دل کے قریب سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم نے چینی صدر کا ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور اگلے سال پاک-چین دوستی کے 75 سال مکمل ہونے پر پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔
اس موقع پر چینی صدر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت کرتے ہیں، اقتصادی ترقی کے تمام شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر پاکستان کے اہم ترین اقتصادی شعبوں پر توجہ دی جارہی ہے، امید ہے پاکستان چینی عملے اور پراجیکٹس کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے: جعفر ایکسپریس سمیت کئی واقعات میں بیرونی ہاتھ ہونے کے شواہد ہیں، شہباز شریف کا ایس سی او اجلاس سے خطاب
اس سے قبل گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے تیانجن، چین میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اجلاس سے خطاب کیا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایس سی او کے لیے تیانجن میں موجود ہونا میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ میں چینی صدر شی جن پنگ کا ان کی مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے ازبکستان اور کرغزستان کو ان کے قومی دن پر مبارکباد بھی پیش کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج چین کی عالمی قیادت کو نہ صرف ایس سی او بلکہ دیگر پلیٹ فارمز میں بھی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور سی پیک اس کی نمایاں مثال اور فلیگ شپ پراجیکٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھا ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند مہینوں میں خطے نے عدم استحکام دیکھا۔ پاکستان تمام ایس سی او ممبران اور ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور تمام ممبران سے یہی توقع رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات
وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او ممبران کے درمیان پانی کے حق تک رسائی میں رکاوٹ نہ ڈالنا اس پلیٹ فارم کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے دہشتگردی کی ہر شکل کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنہوں نے دہشتگردی کو اپنے سیاسی عزائم کے فروغ کے لیے استعمال کیا ہے، انہیں جاننا چاہیے کہ دنیا اب اس افسانوی بیانیے کو قبول نہیں کرتی۔ ہمارے پاس جعفر ایکسپریس ٹرین واقعہ سمیت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں بیرونی ہاتھ ہونے کے شواہد موجود ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امام علی رحمانوف پاکستان تاجکستان تعلقات شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امام علی رحمانوف پاکستان تاجکستان تعلقات شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایس سی او چینی صدر کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔