پیمرا نے کرائم سینز اور زیر حراست افراد کے انٹرویوز پر پابندی عائد کردی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
پیمرا نے کرائم سینز اور حراست میں لیے گئے افراد کے انٹرویوز نشر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ کرائم سینز، برآمد شدہ اشیا اور حراست میں لیے گئے ملزمان کے انٹرویوز نشر کرنے سے گریز کریں، یہ اقدام پولیس تحقیقات میں رکاوٹوں سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دفاعی تجزیہ کاروں کی ٹی وی پروگرامز میں شرکت، پیمرا نے نوٹیفکیشن واپس لے لیا
اسلام آباد میں پیمرا ہیڈکوارٹرز سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ اس سے قبل بھی 19 جون 2023 اور 15 نومبر 2023 کو اس نوعیت کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن میں تمام لائسنس یافتہ چینلز کو مشورہ دیا گیا تھا کہ کسی بھی ملزم یا مشتبہ شخص کی فوٹیج یا سی سی ٹی وی ویڈیوز نشر نہ کی جائیں۔
اعلامیے کے مطابق سندھ پولیس نے ایک بار پھر پیمرا سے رجوع کیا اور درخواست کی کہ چینلز کو ہدایت دی جائے کہ وہ زیرِ تفتیش مقدمات کے دوران کرائم سین کی سی سی ٹی وی فوٹیجز، برآمد شدہ شواہد یا ملزمان کے حراستی انٹرویوز نشر نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا نوٹیفیکیشن پر عملدرآمد روک دیا، صحافیوں کو کورٹ رپورٹنگ کی اجازت
پیمرا نے تمام چینلز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ان احکامات پر عمل کریں اور پروگرام مینیجرز، نیوز ایڈیٹرز، نان لینیئر ایڈیٹرز اور گرافک ڈیزائنرز کو اس معاملے پر حساس بنایا جائے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو پیمرا آرڈیننس 2002 اور پیمرا (ترمیمی) ایکٹ 2023 کی دفعات 27(نشریات پر پابندی)، 29اے(لائسنس فیس کے علاوہ اضافی فیس) 30 (لائسنس کی معطلی یا لائسنس شرائط میں تبدیلی)اور 33 (نشریاتی آلات کی ضبطگی)کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انٹرویوز پابندی پیمرا زیر حراست ملزمان کرائم سینز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرویوز پابندی پیمرا پیمرا نے چینلز کو
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :