سیاسی مسائل کا حل صرف بات چیت اور جمہوریت کے ذریعے ممکن ہے، بانی پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ تین سال تک سیاسی کشیدگی کو پرسکون کرنے کے لیے ڈائیلاگ کی کوشش کرتے رہے ، سیاسی مسائل کا حل صرف بات چیت اور جمہوریت کے ذریعے ممکن ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ ملاقات تقریباً 15 سے 20 منٹ کی رہی، جس میں کے پی کے میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے جلسوں کی تیاریوں میں تاخیر ہوئی ہے، لیکن اب تمام تر انتظامات جاری ہیں۔
عمران خان کے پیغامات اور پارٹی کی حکمت عملی
عمران خان نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور پارٹی رہنماؤں کو متاثرین کی مدد کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت دی۔
انہوں نے افغانستان کے کنڑ میں زلزلے سے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے فیصلے کو سراہتے ہوئے عمران خان نے واضح کیا کہ یہ ان کا مستقل فیصلہ ہے اور استعفے واپس نہیں لیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے حکم دیا کہ استعفیٰ دینے والے لوگوں کو دی جانے والی گاڑی، ڈرائیور اور چابیاں واپس کی جائیں۔
ضمنی انتخاب میں بائیکاٹ کی حکمت عملی کو انہوں نے تسلیم کیا اور کہا کہ یہی پارٹی کا متحدہ فیصلہ ہے۔
سیاسی موقف اور مستقبل کی حکمت عملی
عمران خان نے وضاحت کی کہ ان سے کوئی ‘ڈیل نہیں ہو رہی، یہ فقط ملک کے مفاد میں بات چیت ہوسکتی ہے، جیسا کہ سینئر رہنما علی ظفر نے میڈیا کو بتایا۔
انہوں نے اپنے پارلیمانی خطاب کی تعریف کی اور کہا کہ تین سال تک وہ ڈائیلاگ کی راہ تلاش کرتے رہے۔
استعفوں کے ذریعے سیاسی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جب تک عمر ایوب اور شبلی فراز کا اسٹے آرڈر برقرار ہے، یہ ان کے لیڈر ہیں اور پارٹی کے اندر کوئی انتشار نہیں۔
ہماری سیاسی جدوجہد ڈائیلاگ، جمہوریت اور شفافیت کے ذریعے جاری رہے گی۔ ہم کوئی آسان راستہ اختیار نہیں کر رہے بلکہ عوامی مفاد اور قانون کی پاسداری ہمارا ہدف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ