بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ تین سال تک سیاسی کشیدگی کو پرسکون کرنے کے لیے ڈائیلاگ کی کوشش کرتے رہے ، سیاسی مسائل کا حل صرف بات چیت اور جمہوریت کے ذریعے ممکن ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ ملاقات تقریباً 15 سے 20 منٹ کی رہی، جس میں کے پی کے میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے جلسوں کی تیاریوں میں تاخیر ہوئی ہے، لیکن اب تمام تر انتظامات جاری ہیں۔
عمران خان کے پیغامات اور پارٹی کی حکمت عملی
عمران خان نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور پارٹی رہنماؤں کو متاثرین کی مدد کے لیے عملی اقدامات کی ہدایت دی۔
انہوں نے افغانستان کے کنڑ میں زلزلے سے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔
قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کے فیصلے کو سراہتے ہوئے عمران خان نے واضح کیا کہ یہ ان کا مستقل فیصلہ ہے اور استعفے واپس نہیں لیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے حکم دیا کہ استعفیٰ دینے والے لوگوں کو دی جانے والی گاڑی، ڈرائیور اور چابیاں واپس کی جائیں۔
ضمنی انتخاب میں بائیکاٹ کی حکمت عملی کو انہوں نے تسلیم کیا اور کہا کہ یہی پارٹی کا متحدہ فیصلہ ہے۔
سیاسی موقف اور مستقبل کی حکمت عملی
عمران خان نے وضاحت کی کہ ان سے کوئی ‘ڈیل نہیں ہو رہی، یہ فقط ملک کے مفاد میں بات چیت ہوسکتی ہے، جیسا کہ سینئر رہنما علی ظفر نے میڈیا کو بتایا۔
انہوں نے اپنے پارلیمانی خطاب کی تعریف کی اور کہا کہ تین سال تک وہ ڈائیلاگ کی راہ تلاش کرتے رہے۔
استعفوں کے ذریعے سیاسی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جب تک عمر ایوب اور شبلی فراز کا اسٹے آرڈر برقرار ہے، یہ ان کے لیڈر ہیں اور پارٹی کے اندر کوئی انتشار نہیں۔
ہماری سیاسی جدوجہد ڈائیلاگ، جمہوریت اور شفافیت کے ذریعے جاری رہے گی۔ ہم کوئی آسان راستہ اختیار نہیں کر رہے بلکہ عوامی مفاد اور قانون کی پاسداری ہمارا ہدف ہے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے ذریعے انہوں نے

پڑھیں:

نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔

بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا