بھارت پر ٹیرف کم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: ٹرمپ کا مودی سرکار کو سخت پیغام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
بھارت پر ٹیرف کم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: ٹرمپ کا مودی سرکار کو سخت پیغام WhatsAppFacebookTwitter 0 3 September, 2025 سب نیوز
واشنگٹن:(آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کی تجارتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کردیا کہ اُن کا بھارت پر عائد ٹیرف کم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت طویل عرصے تک امریکا کے ساتھ یکطرفہ تجارت کرتا رہا اور امریکی صنعت کاروں کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے امریکی مصنوعات پر دنیا کے بلند ترین ٹیکس عائد کیے، جس کی وجہ سے کئی کمپنیاں مشکلات کا شکار ہوئیں۔
ٹرمپ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی موٹرسائیکل ساز کمپنی ہارلے ڈیوڈسن بھارت میں اپنی مصنوعات فروخت نہیں کرسکتی تھی کیونکہ بھارت نے 200 فیصد ٹیرف لگا رکھا تھا، جس کی وجہ سے کمپنی کو بھارت میں پلانٹ قائم کرنا پڑا تاکہ وہ ٹیکس سے بچ سکے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اب ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث دنیا بھر سے کمپنیاں امریکا میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جن میں چین، میکسیکو اور کینیڈا کی کار ساز کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ان کمپنیوں کی امریکا میں پیداوار سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور امریکی معیشت مضبوط ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے حالیہ پیشکش کہ وہ اپنے محصولات کو صفر کرنے کے لیے تیار ہے، بہت دیر سے آئی ہے۔ یہ پیشکش کئی سال پہلے ہونی چاہیے تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربیجنگ، عظیم جنگی کامیابی کی 80 ویں سالگرہ، شاندار فوجی پریڈ، چینی صدر کا دنیا کو امن کا پیغام بیجنگ، عظیم جنگی کامیابی کی 80 ویں سالگرہ، شاندار فوجی پریڈ، چینی صدر کا دنیا کو امن کا پیغام مودی کی مشکلات میں اضافہ،سعودی عرب اور عراق نے بھارت کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی چین اور پاکستان مصیبت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے والےبھائی ہیں، چینی صدر سنگین جرائم میں مطلوب اشتہاری ملزم سعودی عرب سے گرفتار قومی اسمبلی اجلاس؛ جنگلات کاٹنے اور دریاؤں پر سوسائٹیز بنانے کیخلاف کارروائی کا مطالبہ فتنۃ الخوارج ؛ معصوم بچوں، شہریوں اور تعلیم و امن کے سب سے بڑے دشمنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔