WE News:
2026-07-24@02:15:48 GMT

کم جونگ کی بکتر بند ٹرین میں کیا خاص ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT

کم جونگ کی بکتر بند ٹرین میں کیا خاص ہے؟

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن ایک بار پھر اپنے آباؤ اجداد کی مشہور بکتر بند سبز ٹرین میں چین کے دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں۔

یہ ٹرین محض ایک سواری نہیں بلکہ شمالی کوریا کی حکمران نسل کی پہچان اور طاقت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

یہ ٹرین کئی دہائیوں سے کم خاندان کے زیرِ استعمال ہے۔ کم جونگ اُن کے والد کم جونگ اِل اور دادا کم اِل سُنگ بھی ہوائی سفر سے گریز کرتے ہوئے انہی بکتر بند ڈبوں میں لمبے سفر کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:یوکرائن کیخلاف روس کا ساتھ دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے اعزازات

پرانے وقتوں میں اس ٹرین پر شاندار ضیافتیں ہوا کرتی تھیں، جن میں فرانسیسی شراب اور تازہ لوبسٹر پیش کیے جاتے تھے۔

ٹیکنالوجی اور سہولتوں کے لحاظ سے بھی یہ ٹرین منفرد ہے۔ بکتر بند ہونے کے باعث یہ صرف 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔

ٹرین کے اندر کانفرنس رومز، بیڈ رومز، سیٹلائٹ فون، فلیٹ اسکرین ٹی وی اور ایک مکمل آفس موجود ہے۔ ماضی میں بتایا گیا کہ کم خاندان کے لیے تقریباً 20 خصوصی ریلوے اسٹیشن بھی تعمیر کیے گئے تھے تاکہ ان کے سفر محفوظ رہیں۔

کم جونگ اُن نے اس ٹرین کے ذریعے نہ صرف چین بلکہ روس کا سفر بھی کیا ہے جہاں وہ صدر پیوٹن سے ملے تھے۔

ریاستی میڈیا کے مطابق یہ ٹرین شمالی کوریا کے اندرونی پروپیگنڈا کا بھی حصہ ہے، جسے عام شہریوں سے حکمرانوں کے “قریبی تعلق” کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

پیونگ یانگ کے قریب ایک مقبرے میں اس تاریخی ٹرین کے ڈبے کا ماڈل بھی رکھا گیا ہے جہاں کم جونگ اُن کے والد اور دادا کی باقیات محفوظ ہیں۔

یوں یہ ٹرین شمالی کوریا کی سیاست، طاقت اور تاریخ کی ایک چلتی پھرتی یادگار بن چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بیجنگ ٹرین چین روس شمالی کوریا کم جونگ ان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چین شمالی کوریا شمالی کوریا بکتر بند یہ ٹرین

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین