لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شاہ ریز پر کارکنوں کو اکسانے کا الزام بے بنیاد ہے۔ مقدمے کی تفتیش میں جیو فینسنگ بھی کی گئی لیکن ان کے خلاف کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ وکیل کے مطابق چالان میں ملزم کا ذکر تک موجود نہیں جبکہ شاہ ریز اس وقت چترال میں تھے جس کے بیانِ حلفی موجود ہیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ شاہ ریز کی گرفتاری دراصل ان کی والدہ علیمہ خان کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہے کیونکہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بیانِ حلفی کی اب تک تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ شاہ ریز کے دوستوں کے سوشل میڈیا سے لی گئی تصاویر موجود ہیں۔ تاہم ان کے اپنے اکاؤنٹ سے کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اس بنیاد پر درخواست ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کی گئی۔

عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یاد رہے کہ شاہ ریز کے خلاف جناح ہاؤس حملہ کیس میں تھانہ سرور روڈ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہ شاہ ریز

پڑھیں:

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت

لاہور ہائیکورٹ(Lahore High Court) نے ایک حبسِ بے جا سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اہم فیصلہ دیتے ہوئے خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جس کے بعد عدالت کے باہر جذباتی اور افسوسناک مناظر دیکھنے میں آئے۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار غلام حسین نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو ان کے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت خاتون کو بازیاب کرا کر انہیں ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے۔

سماعت کے دوران شبنم بی بی عدالت کے روبرو پیش ہوئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کر چکی ہیں اور اپنی مرضی سے ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے اس بیان اور قانونی نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

مزیدپڑھیں:سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

عدالتی فیصلے کے فوراً بعد عدالت کے احاطے میں صورتحال جذباتی ہو گئی۔ شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی آٹھ بیٹیاں شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئیں اور دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔ اس موقع پر وہاں موجود افراد بھی افسردہ نظر آئے۔

بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ان کے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ہے۔

عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے دوسرے شوہر غلام حسین کے ہمراہ وہاں سے روانہ ہو گئیں، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے اس فیصلے پر شدید جذباتی ردعمل سامنے آیا ہے۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خاندانی معاملات، عدالتی فیصلوں اور جذباتی اثرات پر بحث جاری ہے۔

https://mnews.pk/wp-content/uploads/2026/06/crying.mp4

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے