اسلام آباد:

پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ کل ہائی کورٹ کے دو جج کے خطوط نے سب کچھ واضح کردیا، یہ خطوط عدلیہ کے نظام کی حقیقت سامنے لے آئے، ملک میں سیلاب آیا ہوا ہے اور حکومتی رہنما عالمی دورے کر رہے ہیں۔

یہ بات پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کل اختر مینگل کے جلسے پر حملے کی پُرزور مذمت کرتے ہیں، اس دہشت گردانہ کارروائی کے خلاف کوئی محب وطن نہیں ہوسکتا، ہم سب کو شہدا کے لیے فاتحہ پڑھنی ہے، ملک اس وقت سیلاب کی صورتحال سے دوچار ہے، پنجاب کے مختلف شہر اس وقت سیلاب کی نذر ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2022ء میں یہ جنیوا گئے اور کہا گیا 11 ملین ڈالر آئے، وہ 11 ملین ڈالر کہاں گئے؟ پہلے سے آگاہی تھی پانی کی وجہ سے بند ٹوٹ رہے ہیں، اس وقت سیلاب زدہ علاقوں میں انسانوں کے ساتھ مویشیوں کو بھی خطرات لاحق ہیں، سیلاب کی اس صورتحال میں حکومتی رہنما عالمی دورے کر رہے ہیں۔

یہ پڑھیں : فل کورٹ اجلاس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 ججوں کے خطوط سامنے آگئے

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال کھل کر سامنے آگئی ہے، ہماری برآمدات میں کمی آئی ہے اور درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، 8 فروری کا یہ جعلی نظام بے نقاب ہوگیا ہے، کل ہائی کورٹ کے دو خطوط نے سب کچھ واضح کردیا، ان خطوط نے عدلیہ کے نظام کو واضح کر دیا، امام ابوحنیفہ نے کیوں جج بننے سے انکار کردیا تھا؟ انہیں معلوم تھا وقت کا خلیفہ مجھ سے اپنی مرضی کے فیصلے کروائے گا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ 1947ء میں بننے والا پاکستان 1971ء میں ٹوٹ گیا،
ہمارا آئین 1973ء میں بنا، 1973ء میں بننے والے آئین میں طے پایا کہ تمام لوگ اکٹھے رہیں گے، معاشرے میں آئین و قانون کا نفاذ ہونا چاہیے، جن معاشروں میں انصاف نہ ہو وہ معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے اس سیلاب سے پہلے آئین و قانون کی پامالی کا سیلاب آیا، آج فیصلہ کیا جائے کہ اگر ہمیں متحد رہنا ہے تو آئین و قانون کو تسلیم کرنا ہوگا، ماضی میں بڑے بڑے آمر آئے، ان کے خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوئے، آج ُپرامن سیاسی جدوجہد کو دہشت گردی کا خطرہ ہے، مقصد صرف لوگوں کی زبان بند کروانا ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ اختر مینگل کے جلسے میں ہونے والے واقعے کی ہم مذمت کرتے ہیں، ملک اس وقت نیشنل ڈیزاسٹر سے گزر رہا ہے، کے پی میں ایک گھر کے 13 افراد شہید ہوئے، ہم تصور کرسکتے کہ ان کے گھر پر کیا گزری؟ بونیر میں بھی بڑی سطح پر تباہی ہوئی، خیبر پختونخوا کے بارڈر پر 40 سال سے جنگ جاری ہے، کے پی میں کلاشنکوف کلچر اس جنگ کی وجہ سے آیا، جس کے پاس سرمایہ ہے وہ کے پی کے بجائے پنجاب اور دوسرے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور خیبر کے بارڈر پر ڈیزاسٹر ہیں، ملک میں اس وقت چھوٹے ڈیمز کہ ضرورت ہے،  سیلاب کی موجودہ صورتحال دیکھ کر ڈیمز بنانے کا فیصلہ کرنا چاہیے، وفاق صوبوں کے ساتھ مل کر نئے ڈیمز کی تشکیل پر عملی جامہ پہنائے، سابق وزیر اعظم کے بلین ٹری کا پراجکٹ مکمل ہونا چاہیے، میاں صاحب کہتے تھے ووٹ کو عزت دو، میں پوچھتا یہ ووٹ کو عزت ہے؟ جب آٹھ فروری کو مینڈیٹ آپ کو نہ ملا آپ کو استعفی دے دینا چاہیے تھا، میاں صاحب خود اپنے حلقے سے الیکشن ہارے ہوئے ہیں
ملک کی ترقی کا راز صرف آئین و قانون کی بالادستی میں ہے۔

زبیر عمر نے کہا کہ وزیراعظم نے چین میں تقریر کی ہے کہ جب سے ان کی حکومت آئی ہے ایک روپے کی کرپشن نہیں ہوئی، وزیراعظم نے بین الاقوامی سطح پر جھوٹ بولا، اکاؤنٹنٹ جنرل کی رپورٹ میں واضح ہے کہ 300 ارب کی کرپشن ویٹ اسکینڈل میں ہوئی
شوگر مل اونرز کی جیب میں شوگر مل اسکینڈل کے ذریعے 300 ارب روپے گئے، یہ سب وہ ہیں جو حکومت میں ہیں۔

مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ ملک کے حالات سے سبھی افراد خوب واقف ہیں، سب جانتے ہیں کہ ملک میں آزادی اظہار رائے کی کتنی آزادی ہے، میڈیا کے بڑے اینکرز کو انکے شوز سے ہٹا دیا گیا، کچھ دن قبل ایک صحافی کو انکی رہائش گاہ سے اٹھا لیا گیا جب ٹویٹ دیکھا تو کوئی نامناسب بات نہیں لکھی ہوئی تھی، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ کے ججز جب کہیں گے عدلیہ آزاد نہیں تو میں اور آپ کہاں جائیں گے؟

انہوں نے کہا کہ کل کے ججز کے خطوط نے سب واضح کردیا، اب حالات ایسے ہیں کہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کون سا دروازہ کھٹکھٹائیں؟ ہم ایک وائٹ پیپر جاری کریں گے جس میں افتخار چوہدری سے فائز عیسیٰ تک کے دور کا پیپر جاری کریں گے، میں کل سپریم کورٹ میں ذاتی طور پٹیشن دائر کروں گا، اس میں پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ کی چیزیں مینشن کریں گے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی مائینارٹی میں تھے، وکلاء سے بھی اپیل ہے کہ خوددار ججز کی تحریک کو سپورٹ کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سلمان اکرم نے کہا کہ سیلاب کی کورٹ کے

پڑھیں:

زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔

نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ