مومنہ اقبال سیلابی مقامات پر صرف ویڈیوز بنانے کیلئے جانے والے عہدیداروں پر برس پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
اداکارہ مومنہ اقبال نے اعلیٰ معیار کا سوشل میڈیا کانٹینٹ تیار کرنے والی سیاسی شخصیات پر تنقید کی ہے جو سیلاب سے تباہ شدہ علاقوں میں جاکر ویڈیوز بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں۔
مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا انفلوئنسرز، ٹک ٹاکرز اور اداکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ اپنے متعلقہ پلیٹ فارمز اور کام کو چھوڑ دیں کیوں کہ اب سیاسی شخصیات اس میدان میں اُتر چکی ہیں۔
اداکارہ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر لکھا کہ ’میں تمام TikTokers، YouTubers اور اداکاروں سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چھوڑ دیں کیونکہ ہمارے تمام سیاستدان سوشل میڈیا جوائن کر چکے ہیں اور وہ یہ کام ہم سے بہتر کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ان کے کانٹینٹ کریٹرز اور کیمرہ مین‘۔
اداکارہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ وہ اپنے حلقے میں صرف 10 سے 15 منٹ کے لیے جاتے ہیں اور بعد میں غائب ہو جاتے ہیں، وہ ہماری حفاظت کریں گے؟۔
ملک کے بڑے حصوں میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے حوالے سے مومنہ اقبال نے کہا کہ سیاست دان اپنے محلوں میں رہتے ہیں اور وہ اس عام آدمی کا درد نہیں جانیں گے جس نے اپنے گھر پسینے اور خون سے بنائے ہیں اور ان کی سالوں کی محنت سے کھڑی کی گئی فصل تباہ ہوگئی جس کی وجہ سے وہ مر چکے ہیں مگر زندہ رہنے پر مجبور ہیں۔
سوشل میڈیا پر اداکارہ کے مداح ان کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے آواز اُٹھانے پر مومنہ اقبال کو سراہا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستانی اداکارہ اور گلوکارہ عارفہ صدیقی نے بھی سیلابی پانی سے اپنے گھر کو پہنچنے والے نقصان کی ویڈیو شیئر کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مومنہ اقبال سوشل میڈیا ہیں اور رہے ہیں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :