پنجاب میں سیلاب سے صورتحال سنگین ہے، سوشل میڈیا کی خبروں کو مت پھیلائیں، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
لاہور:
وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اس وقت سیلاب سے صورتحال انتہائی سنگین ہیں لہٰذا سوشل میڈیا کی خبروں پر مت جائیں، سرکاری طور پر کوئی مستقل خبر نہ ہو اسے نہ پھیلایا جائے۔
لاہور ڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک مخلوق میں نہ کوئی خدا کا خوف ہے اور نہ کوئی پاکستانیت ہے جو پروپیگنڈا کرکے افراتفری پیدا کرتے ہیں، کھانا دینے سے منع نہیں کیا فساد پارٹی کا کوئی ریلیف کا کام نہیں وہ تو ہر وقت چندہ گلی محلوں سے لیتے ہیں، انہیں نہیں پتہ لوگ ڈوب گئے ہیں بس پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کھانا ٹیسٹ کرکے سیلاب زدہ لوگوں کو دیا جائے اس پر بھی سیاست ہو رہی ہے، اس سے پہلے زہریلا کھانا کھانے سے لوگ متاثر ہوئے، یہ ٹکے کی ریلیف کا کام نہیں کر رہی پنجاب کے لوگوں کو دیکھنا چاہیے۔ اس وقت عوام دیکھ رہے ہیں کون ان کے ساتھ کھڑا ہے اور کون پروپیگنڈا کر رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کے کالا باغ ڈیم کے بیان سے پہلی بار متفق ہوں، نیشنل ایکشن پلان یا قومی سطح پر بہترین حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ مریم نواز کی کمٹمنٹ ہے اسی ڈیمز پر کام کرنے کی ضرورت ہے، اگر سندھ میں سیلاب آتا ہے تو ہمیں تکلیف ہوگی لہٰذا بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ ڈیمز ناگزیر ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو خط لکھ کر بہتر لگتا ہے تو ان کے مشورے کے بغیر بھی مریم نواز اچھا کام کر رہی ہے، کچے کے ڈاکوؤں سمیت ہر ایک کی زندگی اہم ہے وہ باہر آئیں گے تو سرینڈر کریں تو انہیں ساری سہولیات ملیں گی۔
سیلاب اور ریلیف کا کام
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ مجموعی طور پر پنجاب میں سیلابی صورتحال قابو میں ہے اور راوی پر پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے تاہم تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کا سب سے دباؤ زیادہ ہے، بارش اور سیلاب کے باعث دہرا چیلنج ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب جھنگ گئیں تو ہیڈ تریموں پر بریفنگ دی گئی، مریم نواز نے دورہ جھنگ میں فیلڈ اسپتال کا بھی دورہ کیا، محکمہ صحت کو سیلاب زدگان کے لیے سہولیات دینا ہے، ڈی ایچ کیوز اور ٹی ایچ کیوز میں سہولیات کی کمی کو دور کرنا ہے۔ طبی امراض پھیلنے کا خدشہ ہے جس پر حکمت عملی طے کی جا رہی ہے۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 3243 سے زائد مواضعات متاثر ہوئے، 24لاکھ 52 ہزار سے زائد آبادی متاثرہ قرار دی گئی ہے، اب تک 9 لاکھ 99 ہزار 86 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، مویشیوں کی محفوظ منتقلی کی تعداد 7 لاکھ 08 ہزار 940 ہے۔
انکا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 395 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے جن میں 14 ہزار 393 سے زائد افراد مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ، 392 میڈیکل کیمپس اور 336 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں، کل اموات کی تعداد 41 ہے۔
عظمی بخاری نے واضح کیا کہ سیلاب زدگان کے لیے چند گھنٹوں میں جلد از جلد شکایات کا ازالہ کیا جاتا ہے، جو لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں ریسکیو کیا جا رہا ہے اور ہیلپ لائن کے ذریعے سیلاب زدگان کو حکومت بچا رہی ہے، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں 30 لوگوں کو سیلاب زدہ علاقہ سے ریسکیو کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیلابی ریلا ہیڈ محمد وال پہنچنے والا ہے، ہیڈ میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 417 فٹ ہے اور اب تک 407 فٹ تک پانی آ چکا ہے، سیلاب سے ملتان کو بچانے کی تیاری ہے۔ کوئی خیمہ بستی لاہور میں نہیں ہے صرف ریلیف کیمپ ہے، سرکاری کیمپ ہو یا نجی ادارے کا کیمپ ہو اس کا نام لیا جائے۔
عظمی بخاری نے کہا کہ 3233 موضع جات سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، 10 لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، بہترین رہائش و کھانا کھلایا جا رہا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار 7 لاکھ 8ہزار مویشیوں کو ریسکیو کیا گیا، اس وقت اموات کی تعداد 41 ہوگئی ہے اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔ آسمانی بجلی گرنے سے بھی لوگ مرے ہیں۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت بھارتی پانی کے لیے تیار ہے اور بھاکرہ ڈیم جو ستلج کے ساتھ ہے وہ بھی بھر گیا ہے، ریسکیو 1122 اہلکار سیلابی صورتحال سے لڑ کر تھک گئے ہیں لیکن ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، جس طرح مریم نواز نے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا تو اب بھی ایک ایک گھر بسانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان وزیر اطلاعات مریم نواز لوگوں کو سیلاب سے رہی ہے ہے اور رہا ہے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔