شردھا کپور کو اداکاری سے قبل امریکا میں کیا کام کرنا پڑا؟ اداکارہ کا جذباتی بیان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
MUMBAI:
بالی وڈ چکاچوند اور گلیمرس نظر آتی ہے لیکن اس کے کئی اسٹارز کو جہاں انڈسٹری میں اپنا نام بنانے کے لیے سخت محنت کرنا پڑتی ہے وہیں مالی حیثیت بھی ان کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے لیکن جو اپنی صلاحیت کو پہچان جاتے ہیں اور محنت کرتے ہیں وہ اپنا لوہا منواتے ہیں۔
بالی وڈ میں جن اسٹارز نے ماضی میں مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد فلمی دنیا میں نام کمایا ان میں سے ایک نام مشہور ادا کار شکتی کپور کی بیٹی شردھا کپور بھی ہیں۔
بھارت کی فلمی دنیا میں اسٹار بننے سے قبل شردھا کپور امریکا میں تعلیم کے لیے گئی تھیں لیکن مالی مشکلات کے باعث انہیں مشکل کام کرنے پڑے جبکہ تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس بھارت آئیں اور بالی وڈ میں قدم رکھا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شردھا کپور نے امریکا میں کافی شاپ میں کام کیا اور یہاں تک آئن اسٹائن بروز بیگلز میں سینڈوچز بھی فروخت کرتی تھیں۔
بعد ازاں شردھا کپور بالی وڈ کی امیر اسٹارز میں شمار ہونے لگیں اور جیولری کا اپنا برانڈ میں متعارف کروایا اور مشترکہ طور پر جیولری کا کاروبار شروع کیا۔
شردھا کپور امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی میں سائیکالوجی پڑھنے گئی تھیں تاہم پہلے سال ہی انہوں نے تعلیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور بھارت واپس آکر اپنے اداکاری کا خواب پورا کیا جہاں ان کی پہلی فلم تین پتی تھی جس کی کامیابی ان کے کامیاب مستقبل کی ضامن ثابت ہوئی۔
بالی وڈ کی کامیاب اسٹار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی محنت کے حوالے سے بتایا کہ وہ امریکا میں اپنی اخراجات کے لیے پارٹ ٹائم کام کرتی تھیں اور مزید بتایا کہ کسٹمرز کے لیے کافی بنا کر سرو کرنے سے لے کر سینڈوچز فروخت کرنے تک تمام تجربات نے انہیں سنیما کی دنیا میں قدم رکھنے سے قبل آزادی کا مطلب سمجھایا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: شردھا کپور امریکا میں بالی وڈ کے لیے
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔