لزبن میں المناک حادثہ، گلوریا فنیکیولر ٹرین پٹری سے اتر کر عمارت سے جا ٹکرائی، 15افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
لزبن (نیوز ڈیسک) پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں بدھ کی شام ایک ہولناک حادثے نے شہر کو سوگوار کر دیا۔ شہر کی تاریخی گلوریا فنیکیولر کیبل ٹرین پٹری سے اتر کر ایک عمارت سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوگئے۔
پرتگالی ایمرجنسی سروس کے مطابق 5 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دیگر 13 افراد کو معمولی چوٹیں آئیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
حادثہ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 5 منٹ پر ایوینیڈا دا لیبرداد کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ٹریک پر نصب کیبل اچانک ٹوٹ گئی، جس کے باعث گاڑی بے قابو ہوکر قریبی عمارت سے جا ٹکرائی۔
ریسکیو حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پھنسے ہوئے تمام افراد کو نکال لیا۔ امدادی کاموں میں 62 اہلکار اور 22 گاڑیاں حصہ لے رہی تھیں۔
لزبن کے میئر کارلوس موئیداس نے اس سانحے کو شہر کے لیے ایک المیہ قرار دیا۔ پرتگالی صدرمارسیلو ریبیلو دی سوزا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلہ وان ڈیر لائن نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔
قابل ذکر ہے کہ فنیکیولر ٹرین سسٹم 1885 سے لزبن میں چل رہا ہے اور یہ شہر کی پہاڑی گلیوں میں آمدورفت کے ساتھ ساتھ ایک اہم سیاحتی ورثہ بھی ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ
زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if
— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026
یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی
پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال