گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ اُنہیں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے بہت مایوسی ہوئی۔ اُن کی انتظامیہ روس یوکرین جنگ میں اموات میں کمی لانے کے منصوبے پر کام کر رہی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ ان کو روس اور چین کے درمیان گرم جوش تعلقات کے بارے میں کوئی فِکر نہیں۔

اس کے بعد چین میں فوجی پریڈ کے موقع پر چین، روس اور شمالی کوریا کے صدور کی موجودگی پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہاکہ یہ تینوں امریکا کے خلاف سازش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین، روس اور شمالی کوریا امریکا کے خلاف سازش کررہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کو ’نمائشی‘ قرار دیتے ہوئے بھارت، چین اور روس پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ یہ ممالک روس کی یوکرین جنگ کو مالی طور پر ایندھن فراہم کررہے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر چین اور بھارت پر زور دیا کہ وہ روس سے سستا خام تیل خرید کر اسے مالی مدد دیتے ہیں، جو امریکی مفادات کے خلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیاکہ امریکا اور اس کے اتحادی اس حوالے سے سخت اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔

مبصرین کا تجزیہ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ چین اور روس دراصل امریکا کے عالمی اثر کو چیلنج کررہے ہیں، اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے فورمز اس بدلتے ہوئے عالمی توازن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ نے اس پر زیادہ بات نہیں کی، لیکن حقیقت میں یہ ایک حقیقی اسٹریٹجک مقابلہ ہے، جو صرف طاقت کے توازن کی جنگ ہی نہیں بلکہ عالمی نظام کی لڑائی بھی ہے۔

آج چینی اخبار چائنا ڈیلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کی تصویر صفہ اوّل پر شائع ہوئی جو دونوں ملکوں کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نئی صف بندیوں پر تشویش میں مبتلا دکھائی دیتی ہے۔

روس، چین اور بھارت کی قربت پر امریکا کو تشویش ہے: مسعود خان

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں سابق مستقل مندوب مسعود خان نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یقیناً امریکا کو روس اور چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش ہے، اور پھر حالیہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بھارت کی شرکت اور پھر جس طرح سے بھارتی وزیراعظم کی روسی اور چینی صدور کے ساتھ قدرے طویل گفتگو کرتے ہوئے جو باڈی لینگوئج تھی، اُس نے بھی امریکا کو تشویش میں مبتلا کر دیاہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت نے امریکا کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اُس کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، اِسی وجہ سے امریکی صدر اِس طرح کے بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔

کیا امریکا شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی فعال اور متحرک شرکت سے بھی تشویش محسوس کرتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں سفارتکار مسعود خان نے کہاکہ پاکستان کی پالیسی بہت واضح ہے، اُس میں کوئی ابہام نہیں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اُصولی مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے جس اُصول کے تحت اِس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

’گو کہ روس کافی عرصے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کر رہا ہے لیکن پاکستان اور روس کے تعلقات کی وہ سطح ہر گز نہیں جو بھارت اور روس کے تعلقات کی ہے اور اِسی لیے 18 اگست کو امریکی صدر کے مشیرِ تجارت پیٹر نیوارو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری یوکرین جنگ کو مدد فراہم کر رہی ہے جس کا رُکنا چاہیے، اگر بھارت امریکا کا تزویراتی اتحادی بن کے رہنا چاہتا ہے تو اُس کو اُسی طریقے کا روّیہ اپنانا ہو گا۔‘

چین اور بھارت کے درمیان برف کیسے پگھلی؟

مسعود خان نے کہاکہ پاکستان اور بھارت 2017 میں ایک ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہوئے تھے۔ جبکہ 2020 میں بھارت اور چین کے درمیان پہلے ڈوکلام اور بعد میں گلوان کے مقام پر سرحدی تنازع ہوا جس کے بعد بھارت نے چین دشمنی میں کئی قدم اُٹھائے اور کواڈ تنظیم کا رُکن بھی بنا۔ لیکن اب چین اور بھارت امریکی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد ایک نقطے پر متفق ہیں کہ یہ ٹیرف غیر منصفانہ ہیں اور ملٹی لیٹرلزم پر مبنی ایک نیا نظام تشکیل دیے جانے کی ضرورت ہے۔

مودی کے ہوتے ہوئے روس، چین اور بھارت اتحاد قائم نہیں ہو سکتا: سفارتکار وحید احمد

پاکستان کے سابق سفیر وحید احمد نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہوتے ہوئے روس، چین اور بھارت اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔ اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مودی خود کو گلوبل نارتھ کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت روس اور چین کے ساتھ ساتھ خود کو بھی خطے کی اہم طاقت مانتا ہے، لیکن شنگھائی تعاون تنظیم اِجلاس میں جو بھارت کی شمولیت دیکھی گئی اُس سے بھارت کا مقصد صرف یہ ہے کہ آئندہ سال بھارت میں ہونے والے برِکس اِجلاس میں اُسے برِکس اراکین کی حمایت مل جائے کیونکہ برِکس تنظیم میں روس اور چین بھی شامل ہیں۔

وحید احمد نے کہاکہ بھارت کو اِس وقت روس اور چین کی ضرورت ہے اور بھارت کی چین کے ساتھ قربت بنیادی طور بھارت کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فوجی پریڈ: چین نے غیرمعمولی صلاحیتوں سے آراستہ جنگی ڈرونز متعارف کرا دیے

انہوں نے کہاکہ امریکا کی ایک سیکیورٹی ڈاکٹرائن ہے اگر آپ اُس کی پیروی کرتے ہیں تو امریکا آپ کے ساتھ ہے لیکن چین کی اُس طرح سے سیکیورٹی ڈاکٹرائن نہیں۔ ’چین کا نظریہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہے، امریکا نے جو بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں اُس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اگر چین سے فیکٹریاں بھارت منتقل ہوتی ہیں تو امریکی اجارہ داری نظام پر فرق نہ پڑے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی ٹیرف امریکی صدر ایس سی او اجلاس بھارت امریکا تعلقات بھارت کے روس اور چین سے تعلقات پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی ٹیرف امریکی صدر ایس سی او اجلاس بھارت امریکا تعلقات بھارت کے روس اور چین سے تعلقات پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ وی نیوز شنگھائی تعاون تنظیم چین اور بھارت کہاکہ بھارت روس اور چین امریکی صدر اور چین کے کرتے ہوئے کررہے ہیں امریکا کو کے درمیان نے کہاکہ کہ بھارت انہوں نے بھارت کی اور روس کے ساتھ

پڑھیں:

محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کی پیش گوئی کردی۔رپورٹ کے مطابق بدھ کے روزاسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیزہواؤں/آندھی چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش (بعض مقامات پر تیز بارش / ژالہ باری )کی توقع ہے۔ خیبرپختونخواکے بیشتر اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مہمند، خیبر، وزیرستان، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، ہنگو اور کرم میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کےساتھ وقفے وقفے سے بارش (بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری ) کا امکان ہے۔

وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا؟ ارکان پارلیمنٹ نے بتا دیا

 پنجاب کے بیشتر اضلاع راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، قصور، خوشاب، سرگودھا، بھکر ، میانوالی، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، راجن پور، رحیم یار خان اور لیہ میں کہیں کہیں تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش (بعض مقامات پر تیز بارش اور ژالہ باری )کی توقع ہے۔بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک جبکہ جنوبی اضلاع میں شدیدگرم رہنے کی توقع۔تاہم شمال مشرقی اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ کوئٹہ، ژوب، شیرانی، زیارت، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، بارکھان ، ڈیرہ بگٹی ، نصیر آباد، کوہلو، موسیٰ خیل، خضدار اور گردونواح میں چند مقامات پر تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔

بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے باعث شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

 سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا ۔ تاہم بالائی سندھ (سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، گھوٹکی، کشمور، شکارپور) میں تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان  ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت  نوکنڈی، سبی 48، دالبندین 47اور دادو میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی