پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات پہنچانے کا یہ نادر موقع ہے،عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات پہنچانے کا یہ نادر موقع ہے،عاطف اکرام شیخ
اسلام آباد() صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے برآمدات میں اضافے سے متعلق اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھاری امریکی ٹیرف کے نفاذ کے بعد بھارت کی 16ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمدات متاثر ہوں گی،پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے انڈیا کی جگہ امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات پہنچانے کا یہ نادر موقع ہے،پاکستان اس موقع سے صرف اسی صورت فائدہ اٹھا سکتا ہے جب مربوط پالیسی کے تحت تمام سٹیک ہولڈرز کام کریں،موجودہ معاشی تناظر میں عالمی مارکیٹ پاکستان کو ایک دہائی میں ایک بار ملنے والا موقع فراہم کر رہی ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اگر ابھی جرات مندانہ پالیسی اقدامات نہ کیے گئے، تو پاکستان یہ نایاب موقع گنوا سکتا ہے، فوری طور پر ای ایف ایس تک رسائی بحال ، کاروبار کرنے کی لاگت میں کمی لائی جائے،نئی صنعتی پالیسی مثبت اقدام تاہم انڈسٹری کیلئے توانائی قیمتوں میں کمی ناگزیر ہے،
انہوں نے کہا کہ حکومت طویل المدتی اقدامات نافذ کرے تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر عالمی منڈی میں زیادہ حصہ حاصل کر سکے،
پاکستان کے معاشی مسائل کا پائیدار حل برآمدات میں بڑا اضافہ کرنے میں ہے اور یہ اس کا نادر موقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹیکسٹائل سیکٹر عاطف اکرام شیخ نادر موقع ہے پاکستان کے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔