’’ پختونخوا کے ساتھ مضبوط تعلقات کے خواہاں ہیں‘‘ نئے امریکی قونصل جنرل نے چارج سنبھال لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
پشاور:
امریکی فارن سروس کے تجربہ کار افسر ٹام ایکرٹ نے قونصلیٹ جنرل پشاور میں بطور قونصل جنرل اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں۔
پاکستان میں امریکی مشن کی ناظم الاُمور نیٹلی بیکر نے ٹام ایکرٹ کی پشاور میں آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پشاور میں ریاستہائے متحدہ امریکا کی نمائندگی کرنے والے نامور سفارت کاروں کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹام اُن ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے نہایت موزوں شخصیت ہیں، جو پاکستان کی آزادی سے شروع ہونے والے ہمارے سفارتی تعلقات کا تاریخی تسلسل برقرار رکھنے اور خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام کے ساتھ ایسے نئے تعلقات اُستوار کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے، جو ہم سب کو مضبوط، محفوظ اور مزید خوشحال رکھنے کے حامل ہوں۔
دریں اثنا قونصل جنرل ٹام ایکرٹ نےکہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کی ثقافت، ورثے اور مشہور مہمان نوازی کے بارے میں کافی کچھ سنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں معاشی مواقع کے فروغ کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل شراکتوں کو تقویت دینے اور روشن و پُرامن مستقبل کی تعمیر کی خاطر مِل جُل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں ۔
واضح رہے کہ قونصل جنرل ایکرٹ نے 2003ء میں امریکی محکمہ خارجہ میں شمولیت اختیار کی ۔ حال ہی میں انہوں نے قبرص میں بطور سینئر ریجنل سکیورٹی آفیسر اور ناظم الاُمور خدمات سرا انجام دی ہیں۔ قبل ازیں وہ گیبون، ویت نام، برما، عراق اور افغانستان میں بھی تعینات رہے ہیں۔ ٹام کا تعلق امریکی ریاست پنسلوینیا کے شہر فلاڈلفیا سے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔