پی ٹی آئی کے 25 اراکین تاحال قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی نہیں ہوئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر یوں تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور 5 قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں سمیت 51 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دیدیا تھا تاہم پی ٹی آئی سے وابستہ 25 اراکین اسمبلی نے ابھی تک مختلف کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیی نہیں دیا ہے۔
عمران خان نے پی ٹی آئی سے وابستہ اراکین قومی اسمبلی کو گزشتہ پیر کو پارلیمانی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبراوردیگر 5 قائمہ کمیٹیوں کےسربراہوں سمیت پی ٹی آئی کے 51 اراکین قومی اسمبلی نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دیے تھے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سے وابستہ 25 ارکان قومی اسمبلی اس وقت بھی ایسے ہیں، جنہوں نے قائمہ کمیٹی کی رکنیت سے استعفی نہیں دیا ہے، ان میں لطیف کھوسہ، شیر افضل مروت، ریاض فتیانہ، شیر علی ارباب سمیت دیگر شامل ہیں۔
ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ 51 ارکان قومی اسمبلی اور ایک سینیٹر محسن عزیز نے قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا البتہ 25 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے تاحال موصول نہیں ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تاحال پارلیمانی کمیٹیوں کا حصہ رہنے والے پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی میں سلیم رحمان، سہیل سلطان، بشیر خان، محمد نواز خان، محمد عاطف، شیر علی ارباب، ذوالفقار علی، نسیم علی شاہ اور شیر افضل مروت شامل ہیں۔
اسی طرح مبین عارف، اسامہ احمد میلہ، میقاد علی خان، غلام محمد، علی افضل ساہی، سعد اللہ، عمر فاروق، ریاض خان فتیانہ، محبوب سلطان، لطیف کھوسہ، عائشہ نذیر، میاں غوث محمد، معظم علی خان، امبر مجید، میاں فیاض حسین اور خواجہ شیراز محمود نے بھی ابھی تک اپنے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی کو نہیں بھیجے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکر قومی اسمبلی استعفی استعفے بانی پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر پارلیمانی کمیٹیوں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر خان عمران خان قائمہ کمیٹیوں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر قومی اسمبلی استعفی استعفے بانی پی ٹی ا ئی بیرسٹر گوہر پارلیمانی کمیٹیوں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی جنید اکبر خان قائمہ کمیٹیوں قائمہ کمیٹیوں قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔