وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حنیف عباسی کو اسمبلی میں خواجہ آصف سے متعلق بات نہیں کرنی چاہیے تھی، جو بھی غلط فہمی ہے آپس میں بیٹھ کر دور کریں۔

وی نیوز سے گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ آپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تسلسل کے حوالے سے بات کی تو یہ کتنا تسلسل ہوگا؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ تسلسل کسی شخصیت یا عہدے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ موجودہ نظام اور حکومت کا تسلسل پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہوئی ہے، معرکہ حق  کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں، تو یہ تسلسل ملک و قوم کے لیے ضروری ہے، اسے جاری رہنا چاہیے۔

یہ تسلسل کتنے عرصے تک جاری رہ سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس تسلسل کے لیے مدت کا تعین نہیں ہونا چاہیے، یہ جاری رہنا چاہیے، یہ تسلسل 2030 سے آگے بھی جاری رہنا چاہیے۔

خواجہ آصف کس وجہ سے حکومت پر تنقید کررہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ خواجہ آصف ہمارے سینیئر دوست ہیں، حنیف عباسی کو جو غلط فہمی ہوئی ہے وہ بیٹھ کے دور کرلی جائے گی، حنیف عباسی نے جو اسمبلی میں بات کی وہ انہیں خواجہ آصف کے ساتھ بیٹھ کے کرنی چاہیے تھی، ہم حنیف عباسی کی خواجہ آصف سے صلح کروا دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ حنیف عباسی خواجہ ا صف نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن