پشاور بورڈ نے انٹرمیڈیٹ کے نتائج کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, September 2025 GMT
پشاور:
ثانوی اور اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور نے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا۔
پشار تعلیمی بورڈ کے چیئرمین خدا بخش نے بتایا کہ بورڈ امتحانات میں مجموعی طور پر 62 ہزار 322طلبہ نے سیکنڈ ائیر میں حصہ لیا اور 44 ہزار 302 طلبہ پاس جبکہ 16 ہزار 837 ناکام رہے۔
انہوں نے کہا کہ امتحانات سے 583 طلبہ غیر حاضر رہے اور مجموعی طور پر نتائج 72 فیصد رہے۔
نتائج کے مطابق آرٹس میں پہلی پوزیشن عثمانیہ چلڈرن اکیڈمی کے اکرام اللہ نے 1070 لے کر حاصل کی، عثمانیہ چلڈرن اکیڈمی کی 1069 لیکر دوسری پوزیشن اور تیسری پوزیشن اقرا سکول کی حافظہ کائنات نے 1066 نمبر لے کر حاصل کی۔
جنرل کمپیوٹر سائنس گروپ میں 1132 نمبر لے کر چارسدہ کی سومیا جہانزیب نے پہلی، دوسری پوزیشن عفت قاضی اور عریشہ آصف نے 1099 نمبر کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اسی طرح پری انجینئرنگ گروپ میں پہلی پوزیشن طوبہ رؤف نے 1117 نمبر حاصل کیے، پری انجینئرنگ میں 1112 نمبر کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسری پوزیشن عاتکہ لیلیٰ اور محمد حارث نے حاصل کی اور تیسری پوزیشن لینے والی ایمن طارق نے 1111 نمبر حاصل کیے۔
پشاور تعلیمی بورڈ پری میڈیکل گروپ میں انیسہ عروج نے 1145 نمبر لے کر پہلی، حسن مغل 1139 نمبر کے دوسرے اور مروہ قیصر 1138 نمبر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
کراچی: سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت صوبائی حکومت نے امتحانی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے۔ سندھ کابینہ نے “سندھ بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اصلاحاتی پیکیج 2026” کی منظوری دے دی، جس کے بعد صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں جدید ڈیجیٹل امتحانی نظام مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد امتحانات میں شفافیت بڑھانا، نتائج کی تیاری کو تیز اور درست بنانا اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنا ہے۔
امتحانی نظام میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟
اصلاحاتی پیکیج کے تحت سندھ کے ساتوں تعلیمی بورڈز میں ایگزامینیشن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (EMIS) نافذ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ امتحانات میں او ایم آر (OMR) سسٹم، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام سے نتائج کی تیاری کے دوران انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ مارکنگ اور رزلٹ کا عمل پہلے سے زیادہ شفاف اور تیز ہوگا۔
ڈیجیٹل اسناد بھی جاری کی جائیں گی
سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026 کے تحت طلبہ کو مستقبل میں کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل اسناد جاری کی جائیں گی۔ ان اسناد کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی، جس سے جعلی سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور تصدیقی عمل مزید آسان بنایا جا سکے گا۔
24 ماہ میں اصلاحات مکمل کرنے کا ہدف
سندھ کابینہ نے ان اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے 24 ماہ پر مشتمل منصوبے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ کو ضروری قانون سازی کی تجاویز جلد تیار کر کے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ نئے نظام کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بورڈ چیئرمینز کی تقرری سے متعلق بھی اہم فیصلہ
کابینہ نے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کی تقرری کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 55 سال سے بڑھا کر 63 سال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے، تاکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے افراد کو قیادت کا موقع مل سکے۔
اس کے علاوہ میٹرک بورڈ کراچی اور انٹرمیڈیٹ بورڈ حیدرآباد کے چیئرمینز کی خالی آسامیوں کو دوبارہ مشتہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سے درخواست جمع کرانے والے امیدواروں کی درخواستیں برقرار رہیں گی اور انہیں دوبارہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔