سمندر کو پانی نہ ملا تو ماحولیاتی نظام رک جائے گا، جام خان شورو
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے وزیر آبپاشی جام خان شورو نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اگر سمندر کو مناسب مقدار میں پانی نہ دیا گیا تو ہمارا ایکو سسٹم رک جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سمندر کو پانی دینا نہ صرف ماحولیاتی توازن کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ساحلی زندگی اور زرخیزی بھی جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پانی کی کل ضرورت 127 ملین ایکڑ فٹ (ایم ایف) ہے، لیکن تمام سیلابی پانی کو ملا کر بھی صرف 115 ایم ایف دستیاب ہوتا ہے۔ جب اپنی ضرورت کا پانی پورا نہیں، تو سمندر کو بچانے کے لیے کہاں سے دیں گے؟
جام خان شورو نے پانی کی ترسیل کے حوالے سے قادر آباد بیراج کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کٹ لگایا گیا تو پانی کا بہاؤ 10 لاکھ کیوسک تھا، جبکہ ہیڈ پر گنجائش صرف 8 لاکھ کیوسک تک محدود تھی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قادرآباد سے تونسہ تک پانچ لاکھ کیوسک پانی پہنچا، جو دریاؤں میں پھیل گیا اور قابل استعمال نہ رہا۔
وزیر آبپاشی نے بھارت کے ساتھ آبی معاہدوں پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بھارت کو تین دریا دیے، اور بھارت نے 33 ایم ایف پانی استعمال کر لیا، حالانکہ ان کی ضرورت صرف 8 ایم ایف تھی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اب بھارت کے مقابلے میں اپنے حقیقی مطالبات کے ساتھ آگے آنا ہوگا تاکہ قومی مفاد میں پانی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
جام خان شورو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خریف سیزن میں سندھ پانی کے لیے پکار رہا ہوتا ہے لیکن صوبوں کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف سندھ کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سطح پر پانی کی منصفانہ تقسیم ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سمندر کو انہوں نے ایم ایف کہا کہ
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔