محکمہ موسمیات نے 7 تا 9 ستمبر کے دوران سندھ میں وقفے وقفے سے شدید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہو ا کا کم دباؤ اس وقت بھارتی صوبے مدھیہ پردیش پر واقع ہےجس کے مغرب شمال مغرب کی طرف بڑھنے اور 6 ستمبر کو راجستھان سے ملحقہ سندھ کے علاقوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: سیلاب کے بعد لائف جیکٹ کی ڈیمانڈ میں اضافہ

اس موسمی نظام کے باعث سندھ اور پنجاب کے مشرقی علاقوں میں 6 ستمبر سے شدید مون سون ہوائیں داخل ہونے کی توقع ہے۔ جس کے زیر اثر سندھ میں6 سے 9 ستمبر کے دوران تھرپارکر،مٹھی، اسلام کوٹ، نگرپارکر، چھاچھرو، ڈھلی، ڈیپلو، کلوئی، عمر کوٹ، میرپورخاص، سانگھڑ، خیرپور، شہید بینظیر آباد، مٹیاری، ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، حیدرآباد، کراچی، ٹھٹھہ، بدین سجاول، جامشورو، دادو، کشمور، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، شکارپور اور گھوٹکی میں اکثر مقامات پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ کہیں کہیں موسلادھار /شدید موسلادھار بارش کی بھی توقع ہے۔

اسی طرح راولپنڈی و اسلام آباد میں (شام یا رات) سے 8 ستمبر کے دوران  بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح کی صورتحال لاہور، قصور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، اوکاڑہ، ساہیوال، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی، خانیوال، ملتان، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان، راجن پور، کوٹ ادو اور ڈیرہ غازی خان میں بھی درپیش ہوگی جہاں اسلام آباد کی طرح تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سےبارش جبکہ چند مقامات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

اس دوران مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور وزیر آباد میں بھی تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

محکمہ موسمیات نے مزید بتایا ہے کہ بلوچستان میں 7 سے 9 ستمبر کے دوران بارکھان، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی، ژوب، نصیر آباد، بولان، ڈیرہ بگٹی، کوہلو، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، پسنی، اورماڑہ اور گوادر میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور چند مقا مات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

مزید پڑھیے: وزیراعلیٰ پنجاب کا سیلاب متاثرین کے لیے جامع بحالی پیکیج تیار کرنے کا حکم

مزید برآں کشمیر اور گلگت بلتستان میں6 (شام) سے8 ستمبر کے دوران وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، سدھانوتی، کوٹلی، بھمبر اورمیرپورمیں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش اور چند مقا مات پر موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

خیبر پختونخوا میں7 سے 9 ستمبر کے دوران دیر، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بونیر، مالاکنڈ، باجوڑ، مہمند، صوابی، پشاور، مردان، کوہاٹ اور کرم میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ ممکنہ اثرات اور احتیاطی تدابیر کے تحت حیدرآباد اور کراچی کے نشیبی علا قے زیر آب آنے کاخدشہ ہے۔

اس دوران پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مزید بارشوں سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ 7 سے 9 ستمبر کے دوران ڈیرہ غازی خان اور اس سے ملحقہ بلوچستان کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کے برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

اس دوران بالائی خیبرپختونخوا، مری، گلیات اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔ شدید بارشوں، آندھی، جھکڑ چلنے اورگرج چمک کے باعث روزمرہ کے معمولات متاثر ہونے ، کمزور انفرا سٹرکچر کو نقصان کا اندیشہ بھی ہے ۔

محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ مسافروں اور سیاح حضرات سفر کے دوران زیادہ محتاط رہیں اور موسمی حالات کے مطابق اپنے سفر کا انتظام کریں اور بارشوں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے موسم کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔

مزید پڑھیں: نواب شاہ: آصفہ بھٹو زرداری نے ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے انتظامات کا جائزہ لیا

مزید برآں تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بارشوں کی پیشگوئی بارشیں راجستھان سیلاب موسم کا حال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بارشوں کی پیشگوئی راجستھان سیلاب موسم کا حال تیز ہواو ں اورگرج چمک کے ساتھ چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے سے 9 ستمبر کے دوران محکمہ موسمیات نے موسلادھار بارش امکان ہے بارش کا کے لیے

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل