ملک میں سیلابی صورتحال، وفاقی حکومت کا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
ملک میں سیلابی صورتحال، وفاقی حکومت کا اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 5 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وفاقی حکومت نے ملک بھر میں مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پاکستان میں مہنگائی کے رجحانات پر نظر رکھنے کے لیے وزیر اعظم کی قائم کردہ اسٹیئرنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں آنے والے دنوں میں مہنگائی پر ممکنہ طور پر اثر انداز ہو سکنے والے بنیادی ملکی و بین الاقوامی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، شرکا نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں خاص طور حالیہ سیلاب کی روشنی میں ان کے غریب اور کم آمدنی والے طبقات پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اہم بیٹھک کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور بڑی فصلوں کی صورتحال کی باقاعدہ نگرانی کرنے اور ضرورت پڑنے پر صوبائی حکومتوں اور وفاقی اداروں کے ساتھ مل کر انتظامی اقدامات کی سفارش کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔اجلاس کے دوران خاص طور پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام اور بالخصوص سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور کمزور طبقوں پر اثر انداز ہونے والی ضروریاتِ زندگی کی قیمتوں کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ کیا گیا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ وزیر خزانہ نے دورانِ اجلاس، وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اور پاکستان ادارہ شماریات کو صوبوں کے ساتھ مل کر گندم، چاول اور چینی جیسے اہم غذائی اجناس کے دستیاب ذخائر کا فوری طور پر جائزہ لینے کہ ہدایت کی۔
محمد اورنگزیب نے اجلاس کے شرکا کو سپلائی چین کے تسلسل، ذخائر کی دستیابی اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس تجاویز جلد پیش کرنے کی ہدایت کی اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے غریب اور سیلاب زدہ علاقوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کا یقین دلایا۔ اجلاس میں وزارتِ خزانہ، پاور ڈویژن، پٹرولیم ڈویژن، وزارتِ پی ڈی اینڈ ایس آئی، وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، پاکستان ادارہ شماریات اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کے اعلی حکام شریک ہوئے۔چیئرمین و فاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بروقت اقدامات کے لیے کمیٹی کا اگلا اجلاس جلد بلانے کی بھی ہدایت دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلیمہ خانم پر انڈا پھینکنے کا واقعہ، پی ٹی آئی نے اندراج مقدمہ کیلئے تھانے میں درخواست دیدی علیمہ خانم پر انڈا پھینکنے کا واقعہ، پی ٹی آئی نے اندراج مقدمہ کیلئے تھانے میں درخواست دیدی پنجاب حکومت کا گرانٹ اِن ایڈ پالیسی 2025کا اعلان، مریم اورنگزیب سربراہ نامزد جسٹس منصورکا چیف جسٹس کو خط ، 26ویں ترمیم پر فل کورٹ نہ بنانے سمیت چھ سوالات کے جوابات مانگ لیے ہم نے چین کے ہاتھوں بھارت اور روس کو کھو دیا، مستقبل کے لیے دعا گو ہوں، صدر ٹرمپ ریاض سیزن سکس،کنگز سلام کو عالمی سطح پر نیٹ فلکس پر نشرکرنے کا اعلان وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، نادرا میں غیر رجسٹرڈ سیلاب متاثرین کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی قیمتوں کی کا فیصلہ کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔