وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، نادرا میں غیر رجسٹرڈ سیلاب متاثرین کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت WhatsAppFacebookTwitter 0 5 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو آئندہ برس کی مون سون کے لیے ابھی سے تیاری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات بشمول بارشوں اور سیلاب سے بچانے اور انکے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے 2 ہفتے میں ایک جامع لائحہ عمل پیش کرے، حالیہ بارشوں اور سیلاب کے متاثرین کی بحالی ترجیح ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی ہر قسم کی معاونت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
جمعہ کو وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ طوفانی بارشوں، سیلابی صورت حال اور جاری امدادی سرگرمیوں پر جائزہ اجلاس ہوا۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مون سون کا آخری اسپیل ختم ہونے کے بعد متاثرین کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا، ابھی تمام تر وسائل و افرادی قوت ریسکیو، ریلیف و انخلا میں مصروف عمل ہے۔سیلابی ریلے کے حوالے سے بتایا گیا کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی ریلہ اس وقت وسطی اور جنوبی پنجاب میں پہنچ چکا ہے جو جلد پنجند سے گزرے گا، پنجند پر 10 سے 12 لاکھ کیوسک ریلے سے بچا کی تیاری مکمل کی گئی، ملتان میں اس وقت انتظامیہ، پاک فوج اور ریسکیو ادارے سیلابی ریلے کو بغیر کسی بند توڑے گزارنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بجلی کی بحالی کا 80 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے، متاثرہ پلوں اور شاہراہوں کو روابط کی بحالی کے لیے مرمت کرکے ٹریفک کے لیے کھولا جاچکا ہے، مجموعی طور پر پورے ملک میں 20 لاکھ سے زائد لوگوں کی بروقت نقل مکانی کروائی گئی۔
وزیراعظم کو مزید بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 4100 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے 6300 ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچایا گیا، طبی امداد کی فراہمی کے لیے 2400 سے زائد میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے، جاں بحق وزخمیوں کی مالی معاونت کے لیے نادرا کی مدد لی جارہی ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے صوبائی حکومتوں کو وفاق کی جانب سے ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا لوگوں کے بروقت انخلا اور امدادی سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی یقینی بنائی جائے، ایسے متاثرین جو نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں، ان تک مالی معاونت پہنچانے کے لیے کمیٹی قائم کی جائے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، پاک فوج اور ریسکیو و ریلیف کے وفاقی و صوبائی اداروں کی لوگوں کے ریسکیو اور ریلیف کے لیے کاروائیاں قابل تحسین ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعلیمہ خان کو انڈہ مارنا شرمناک، گھٹیاپن اور بازاری حرکت کے سوا کچھ نہیں، سعد رفیق علیمہ خان کو انڈہ مارنا شرمناک، گھٹیاپن اور بازاری حرکت کے سوا کچھ نہیں، سعد رفیق حکیم شہزاد شادی میں فحش مجرا کروانے پر گرفتار، سلامی کی رقم سیلاب زدگان کو دینے کا اعلان وفاقی حکومت کا عیدمیلادالنبیۖ کے موقع پر قیدیوں کی سزاوں میں کمی کا اعلان پنجاب اور اسلام آباد میں 7تا 9 ستمبر موسلادھار بارش کا امکان،این ڈی ایم اے نے خبردار کر دیا ڈرامہ لگا ہوا ہے، آپ سب بیوقوف بنے جا رہے ہیں، بشری بی بی کی بہن کا علیمہ خان پر انڈا پھینکنے پرردعمل پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس؛ شیخ وقاص نے جنید اکبر کی کارکردگی پر سوالات اٹھادیے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کرنے کی ہدایت بتایا گیا کہ متاثرین کی کی بحالی کے لیے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ