سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی میں ننھے مہمان کی آمد، اندھیرے میں روشنی، مایوسی میں امید کی کرن قرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
دریائے راوی میں آئے حالیہ تباہ کن سیلاب نے جہاں لاہور کے نواحی علاقے موہلنوال میں عارضی خیمہ بستیاں آباد کر دیں، وہیں انہی خیموں میں ایک نئی زندگی نے جنم لیا ہے جہاں تھیم پارک سوسائٹی کے متاثرہ خاندان سے تعلق رکھنے والے عرفان اور ان کی اہلیہ کے ہاں آٹھویں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔
عرفان رکشہ ڈرائیور ہیں اور اپنی محدود آمدنی میں قسطوں پر گھر خریدنے کی جدوجہد کر رہے تھے کہ اچانک آنے والے سیلاب نے ان کا گھر، جمع پونجی اور خواب سب بہا دیے۔
32 سالہ عرفان کی اہلیہ جن کی عمر لگ بھگ 28 سال ہے، پہلے ہی سات بچوں کی ماں ہیں، چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں، اب آٹھواں بچہ اسی خیمہ بستی میں پیدا ہوا ہے جس کا نام والدہ نے عبداللہ رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق کے تحت تعینات ڈاکٹرز نے زچہ و بچہ کو صحت مند قرار دیا ہے۔
خیمہ بستی میں مقیم متاثرین نے اس بچے کی پیدائش کو اندھیروں میں روشنی اور مایوسی میں امید سے تعبیر کیا۔
ایک مقامی خاتون نے کہا کہ یہ بچہ صرف عرفان کے گھر کی خوشی نہیں بلکہ ہم سب کے لیے پیغام ہے کہ زندگی سب دکھوں کے باوجود اپنا راستہ بناتی ہے۔
یاد رہے کہ تھیم پارک سوسائٹی ان علاقوں میں شامل ہے جو حالیہ سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، گھروں سے محروم ہونے والے مکین اب موہلنوال اور چوہنگ سمیت مختلف مقامات پر سجائی گئیں خیمہ بستیوں میں مقیم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔
ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔