ہفتہ وار رپورٹ: زرمبادلہ مارکیٹوں میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کمزور
اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT
کراچی:
رواں سال کے قرضوں کی ادائیگی کے انتظامات مکمل ہونے اور امریکا، چین سمیت بڑے ممالک کی پاکستان کو اپنی معاشی ترجیحات میں شامل کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے بھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کمزور رہا۔
ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق چین سے 8.5 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی پاکستان میں بڑھتی دلچسپی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں فی بیرل 87 سینٹ سے 1.
ہفتہ وار کاروبار کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 12 پیسے گھٹ کر 281.65 روپے پر آگئی جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 50 پیسے کی کمی سے 283.10 روپے پر بند ہوا۔ اسی طرح برطانوی پاؤنڈ کے انٹربینک ریٹ 82 پیسے کمی سے 379.24 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 1.68 روپے کمی سے 381.32 روپے رہے۔
یورو کی انٹربینک قدر 328.87 روپے اور اوپن مارکیٹ ریٹ 330.87 روپے ریکارڈ ہوئے۔ سعودی ریال انٹربینک میں 75.06 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 75.40 روپے پر بند ہوا۔ اماراتی درہم انٹربینک میں 76.68 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 77.10 روپے کی سطح پر آگیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روپے اور اوپن مارکیٹ اوپن مارکیٹ میں میں ڈالر
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔