جاپانی وزیرِ اعظم شیگیرو اشیبا نے انتخابات میں شکست کے بعد استعفیٰ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
جاپان کے وزیر اعظم شیگیرو اشیبا نے انتخابات میں شکست کے بعد عہدے سے استعفیٰ دے دیا جس سے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کے لئے پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو گا۔
68 سالہ اشیبا، جنہوں نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کی آخری تفصیلات طے کی تھیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ٹیرف دبائو کو کم کیا جا سکے، نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں انتخابات میں تسلسل سے شکستوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہے۔
واضح رہے کہ اشیبا نے ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل اقتدار سنبھالا تھا، اور ان کی حکومتی اتحاد کو انتخابات میں دونوں ایوانوں میں اکثریت سے ہاتھ دھونا پڑا، جس کی وجہ عوامی غصہ اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات ہیں۔
انہوں نے اپنی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو ہدایت دی کہ وہ ایمرجنسی لیڈرشپ ریس منعقد کرے، اور کہا کہ وہ اپنے جانشین کے منتخب ہونے تک اپنے فرائض جاری رکھیں گے۔
اشیبا نے کہا کہ جاپان نے تجارتی معاہدہ کر لیا اور صدر نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیئے، ہم نے ایک اہم مرحلہ عبور کر لیا ان کی آواز میں جذبات کا اثر تھا جب انہوں نے مزید کہا کہ اب میں اگلی نسل کو یہ ذمہ داری سونپنا چاہوں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔