کراچی میں کل شدید موسلادھار بارش سے شہر کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے: محکمہ موسمیات
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
کراچی: محکمہ موسمیات نے کل شہر میں شدید موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر کے مطابق کراچی میں موجود مون سون سسٹم اس وقت ڈیپ ڈپریشن کی شکل میں برقرار ہے، جو سمندری طوفان بننے سے قبل کا مرحلہ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ بارش کا سسٹم زمین پر موجود ہے اور اس کا مرکز تھرپارکر کے علاقے میں ہے، اس شدت کے دوران ہوائیں 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ سکتی ہیں۔
انجم نذیر کا کہنا ہے کہ مون سون کا یہ سسٹم شدید موسلا دھار بارش کا سبب بنتا ہے، سہ پہر میں کراچی میں موسلادھار بارش ہوسکتی ہے،کل یہ سسٹم شہر کے قریب سے گزرے گا،کل کراچی کی صورتحال خراب رہ سکتی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ کل کراچی میں شدید موسلا دھار بارش ہوسکتی ہے، شہر میں انفرا اسٹرکچر خراب ہونے کے باعث سڑکوں پر اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوسکتا ہے، شہری کچے انفرااسٹرکچر سے دور رہیں،تیزبارش کی صورت میں گھروں میں رہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پورے اسپیل کے دوران کراچی میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوسکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ہوسکتی ہے کراچی میں
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔