51 سالہ ارمیلا نے 30 برس بعد اپنے مشہور گانے پر ڈانس کر کے سب کو حیران کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ارمیلا مٹونڈکر کی فلم ’رنگیلا‘ کی ریلیز کے 30 سال مکمل ہونے پر شیئر کی گئی ڈانس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
ارمیلا نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مداحوں کیساتھ اپنی 1995 کی فلم کے اپنے مشہور گانے ’رنگیلا رے‘ پر اپنے ڈانس کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جو سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔
رام گوپال ورما کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا گانا ’رنگیلا رے‘ بےحد مشہور ہوا تھا۔ حالیہ ویڈیو میں ارمیلا آسمانی اور سفید رنگ کے شارٹ فراک زیب تن کی ہوئی ہیں اور اس گانے پر ڈانس کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Urmila Matondkar (@urmilamatondkarofficial)
اس ویڈیو پر مداحوں کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ اداکارہ 51 سال کی ہیں اور تیس برس بعد اپنے اس گانے پر پرفارم کر رہی ہیں۔
مداحوں نے ارمیلا کی فٹنس کی تعریف کرتے ہوئے ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔