51 سالہ ارمیلا نے 30 برس بعد اپنے مشہور گانے پر ڈانس کر کے سب کو حیران کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ ارمیلا مٹونڈکر کی فلم ’رنگیلا‘ کی ریلیز کے 30 سال مکمل ہونے پر شیئر کی گئی ڈانس کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
ارمیلا نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مداحوں کیساتھ اپنی 1995 کی فلم کے اپنے مشہور گانے ’رنگیلا رے‘ پر اپنے ڈانس کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جو سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔
رام گوپال ورما کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا گانا ’رنگیلا رے‘ بےحد مشہور ہوا تھا۔ حالیہ ویڈیو میں ارمیلا آسمانی اور سفید رنگ کے شارٹ فراک زیب تن کی ہوئی ہیں اور اس گانے پر ڈانس کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by Urmila Matondkar (@urmilamatondkarofficial)
اس ویڈیو پر مداحوں کی جانب سے دلچسپ تبصرے کیے جارہے ہیں۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ اداکارہ 51 سال کی ہیں اور تیس برس بعد اپنے اس گانے پر پرفارم کر رہی ہیں۔
مداحوں نے ارمیلا کی فٹنس کی تعریف کرتے ہوئے ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔