سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد، ماہ اگست میں 3ارب 10کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد، ماہ اگست میں 3ارب 10کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست کے مہینے میں سمندر پار مقیم پاکستانیوں نے 3 ارب 10 کروڑ امریکی ڈالر ترسیلات زر بھیجیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اگست 2025 کے دوران کارکنوں کی ترسیلات زر کی مد میں 3.
اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پر مالی سال 26 کے پہلے دو ماہ کے دوران 6 ارب 40 کروڑ امریکی ڈالر موصول ہوئے جو گزشتہ مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ملنے والی 5 ارب 90 کروڑ ڈالر ترسیلات سے 7 فیصد زیادہ ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق سب سے زیادہ 73 کروڑ 67 لاکھ ڈالر کی ترسیلات سعودی عرب سے آئیں، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 62 کروڑ 29 لاکھ، برطانیہ سے 46 کروڑ 34 لاکھ، امریکا سے 26 کروڑ 73 لاکھ ڈالر ترسیلات زر موصول ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریو اے ای نیول فورسز کے کمانڈر کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات،علاقائی سلامتی اور فوجی تعاون پر تبادلہ خیال یو اے ای نیول فورسز کے کمانڈر کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات،علاقائی سلامتی اور فوجی تعاون پر تبادلہ خیال نواز شریف، مریم نواز سے بنگلہ دیش کے مشیر مذہبی امور کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر گفتگو پنجاب میں سیلابی صورت حال شدت اختیار کرگئی، پنجند اور تریموں پر اونچا سیلاب، بستیاں زیرآب، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس میں 3گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل پاکستان نے بہت کچھ دیا، اب لوٹانے کاوقت ہے، شاہد آفریدی کاسیلاب متاثرین کیلئے فنڈریزنگ تقریب سے خطاب سوئس سیاح پاکستان کو بین الاقوامی سیاحوں کے لیے محفوظ مقام قرار دیتے ہیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی ترسیلات ترسیلات زر ڈالر کی
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔