شارع فیصل کا وہ مقام جو بارش کے بعد کنواں بن جاتا ہے، کیا حکومت اس بار تیار ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
صوبہ سندھ میں سیلاب کے ساتھ ساتھ شدید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ کراچی میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے نہ صرف تیاریوں کے دعوے کیے گئے ہیں بلکہ عوام کو احتیاطی تدابیر اپنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
کراچی میں ہونے والی آخری بارش میں شارع فیصل کا کافی تذکرہ ہوا، شارع فیصل پر نرسری فرنیچر مارکیٹ وہ مقام تھا جہاں ماضی میں نہ صرف ہزاروں افراد پھنسے بلکہ سینکڑوں گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں، ساتھ ہی فرنیچر مارکیٹ پوری ڈوبی جس سے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بدھ تک شدید بارشوں کی پیش گوئی
گزشتہ تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے ’وی نیوز‘ نے فرنیچر مارکیٹ کا رخ کیا، یہ جاننے کے لیے کہ اب کی بار تو تیاریاں مکمل ہو چکی ہوں گی، لیکن فرنیچر مارکیٹ میں تاجروں کے چہروں پر مایوسی کے آثار نمایاں تھے، کچھ شوروم اب بھی اس لیے خالی ہیں کیوں کہ پھر سے بارش ہونے والی ہے اور تاجروں کو فرنیچر خراب ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
تاجروں کے مطابق شارع فیصل سے منسلک نالے کا پانی نکل ہی نہیں سکتا جبکہ اس پر کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا جائے۔
تاجروں کے مطابق 6 سے 9 فٹ پانی میں یہ مارکیٹ ڈوب جاتی ہے، جس سے ہمارا کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے۔ ہم نے دکانوں سے اور مارکیٹ سے کیچڑ صاف کیا تھا کہ اب پھر بارش آگئی ہے اور انتظامات سب کے سامنے ہیں۔
ہم نے رخ کیا شارع فیصل سے منسلک نالے اور سروس روڈ کا تو وہاں بھی کوئی انتظام نظر نہیں آیا، برساتی نالے اور سیوریج لائن بنا ڈھکنوں کے ہیں، اس مقام پر مارکیٹ، سروس روڈ اور نالے کا لیول ایک ہوجاتا ہے جس کے بعد اندازہ نہیں ہوپاتا کہ کون سی جگہ قدم رکھنا ہے اور کہاں نہیں رکھنا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کی شارع فیصل بارش کے پانی میں کیوں ڈوب جاتی ہے؟ حیران کب وجہ سامنے آگئی
اسی مقام پر ایک شہری نے ’وی نیوز‘ سے بات چیت میں کہاکہ انہوں نے گزشتہ بارش میں کئی افراد کو اس نالے میں ڈوبنے سے بچایا۔ یہ مقام اب بھی چوک ہے اور نجانے آنے والی بارش میں اس جگہ کیا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wnews انتظامیہ بارش تاجر برادری تاجر پریشان حکومت شارع فیصل کروڑوں کا نقصان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتظامیہ تاجر برادری تاجر پریشان حکومت شارع فیصل کروڑوں کا نقصان وی نیوز شارع فیصل ہے اور
پڑھیں:
دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
لاہور:دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ چنیوٹ میں سیم نہر میں 50 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے متعدد فصلیں زیر آب آگئیں۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق تریموں ہیڈ ورکس پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 48 ہزار 650 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 50 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں کے لیے چار فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
دوسری جانب، چنیوٹ میں جھنگ روڈ بائی پاس کے قریب کانجو موڑ پر سیم نہر میں تقریباً 50 فٹ چوڑا شگاف پڑ گیا، جس کے نتیجے میں کئی ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث نہر میں پانی کا دباؤ بڑھا، جس سے شگاف پیدا ہوا۔
اطلاع ملتے ہی ڈپٹی کمشنر، محکمہ آبپاشی اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، جبکہ نہر کے شگاف کو پر کرنے اور مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی جاری ہے۔
ادھر ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دریاوں کا بہاؤ مستحکم رہا۔
دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ تربیلا 3 لاکھ 42 ہزار، کالا باغ 3 لاکھ 9 ہزار اور چشمہ میں 2 لاکھ 93ہزار کیوسک ہے۔
مزید پڑھیںبھارت کی جانب سے آبی جارحیت، دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، الرٹ جاری
پنجاب میں مون سون کا سلسلہ برقرار، مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری
دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے جس کے بعد سیلابی صورتحال اونچے سے درمیانے درجے پر آگئی ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے دجے کا سیلاب ہے۔
ہیڈ مرالہ کی مقام پر پانی کا بہؤ 2 لاکھ 8 ہزار، خانکی کے مقام پر 1 لاکھ 65 ہزار اور قادر آباد کے مقام پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے جبکہ جسڑ، شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بہاؤ بھی نارمل ہے۔
نارروال نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ ارا کینٹ بریج ناکہ ایک میں نچلے درجے اور وزیر آباد نالہ ایک میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
دوسری جانب، دریائے ستلج اور جہلم میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ کے مطابق بالائی علاقوں میں بارشوں کے سبب دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، دریائے چناب کے اپر کیچمنٹس میں بارشیں رک چکی ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں سے دریائے چناب میں بہاؤ مستحکم ہو چکا ہے۔
ڈی جی نے ہدایت کی کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں، حکومت پنجاب کی جانب سے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انتظامات مکمل ہیں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسم و سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔