طیب بلوچ ، فیصل حکیم اور غلام رسول قمر و دیگر صحافیوں پر تشدد کا مقدمہ علمیہ خان ، نعیم پنجوتہ سمیت چالیس نامعلوم افراد پر درج ، ایف آئی آر سب نیوز پر
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
طیب بلوچ ، فیصل حکیم اور غلام رسول قمر و دیگر صحافیوں پر تشدد کا مقدمہ علمیہ خان ، نعیم پنجوتہ سمیت چالیس نامعلوم افراد پر درج ، ایف آئی آر سب نیوز پر WhatsAppFacebookTwitter 0 8 September, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (سب نیوز)پی ٹی آئی کارکنان کی طرف سے صحافیوں پر تشدد کا معاملہ ، تھانہ صدر بیرونی میں علیمہ خان ، نعیم پنجھوتہ و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔
علیمہ خان سے سوال کرنے پر پی ٹی آئی کارکنان کے تشدد کا شکار بننے والے صحافی نے تحریک انصاف کے رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف تھانے میں مقدمہ اندراج کیلئے درخواست دی تھی ۔ جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ میں دیگر میڈیا نمائندگان کے ہمراہ اڈیالہ جیل گیٹ کے سامنے موجود تھا، میڈیا ٹاک کے دوران نعیم پنجھوتہ نے للکارا کہ اسے علیمہ خان سے سوال کرنے کا مزہ چکھا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ نعیم پنجھوتہ کے کہنے پر ایم پی اے تنویر اسلم، اظفر اور ٹوما نے جکڑ کر گرایا، جس کے بعد انتصار ستی سمیت 40 نامعلوم پی ٹی آئی کارکنان نے تشدد کیا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے دوران موبائل فون چھین کر مائیک توڑ دیا گیا جبکہ بیچ بچا کروانے پر دیگر صحافی اعجاز احمد اور فیصل حکیم کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔طیب بلوچ نے لکھا کہ علیمہ خان کو امریکا کی جائیدادوں سے متلعق سوال ناگوار گزرا،اسی پر انھوں نے میرے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلوائی، مجھ سمیت فیصل حکیم،غلام رسول قنبر کی تصاویر لگا کر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ کیا گیا۔
انہوں نے موقف اختیار کیا کہ آج طے شدہ پلان کے مطابق مجھ پر حملہ،تشدد کیا گیا،مصبائل فون چھین کر مائیک توڑ دیا گیا۔ طیب بلوچ نے ایف آئی آر میں مطالبہ کیا کہ علیمہ خان، نعیم پنجھوتہ، انتصار ستی کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتوشہ خانہ کے تحائف کی بولیوں میں نجی تخمینہ کاروں کی عدم دلچسپی برقرار، مسلسل چوتھی بار کوئی بولی موصول نہیں ہوئی توشہ خانہ کے تحائف کی بولیوں میں نجی تخمینہ کاروں کی عدم دلچسپی برقرار، مسلسل چوتھی بار کوئی بولی موصول نہیں ہوئی پاکستان پر قرضے اور واجبات 94ہزار 197ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے پی ٹی آئی کارکنان کے تشدد کے شکار صحافی نے تھانے میں علیمہ خان کیخلاف درخواست جمع کرادی سونا، تانبہ و دیگر نایاب دھاتیں نکالنے کیلئے حکومت اور امریکی کمپنیوں کے درمیان ایم او یو پر دستخط عمران خان کیخلاف ہرجانے کا کیس، وزیراعظم ویڈیو لنک پر جرح کیلئے طلب قازقستان کے نائب وزیراعظم وفد کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ گئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیصل حکیم طیب بلوچ سب نیوز تشدد کا
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔