علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کے دوران بد نظمی، پی ٹی آئی کارکنان کا صحافیوں سے بدسلوکی اور ہاتھا پائی
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
اڈیالہ جیل کے باہر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی میڈیا سے گفتگو کے دوران ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، جہاں پی ٹی آئی کارکنان نے صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کی، گالم گلوچ کیا اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک صحافی نے علیمہ خان سے سوال پوچھا، جس پر مشتعل کارکنوں نے نہ صرف سوال کرنے والے صحافی پر تشدد کیا بلکہ موقع پر موجود دیگر صحافیوں کو بھی دھکے دیے۔
اس رویے کے خلاف احتجاجاً صحافیوں نے علیمہ خان کی میڈیا ٹاک کا بائیکاٹ کر دیا، تاہم اس بائیکاٹ کے بعد بھی صورتحال کشیدہ رہی اور پی ٹی آئی کارکنوں نے ایک بار پھر صحافی پر تشدد کیا۔
صحافتی تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں میں صحافیوں کے ساتھ ایسا سلوک آزادی صحافت پر حملہ ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی علیمہ خان خان کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔