ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے والے ممالک پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت ان ممالک پر سخت اقدامات کیے جائیں گے جو امریکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیتے ہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ایسے ممالک کو بلیک لسٹ کیا جا سکے گا اور ان کے خلاف مختلف قسم کی پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔ ان پابندیوں میں برآمدات پر روک، سفری رکاوٹیں، ویزا معطلی، اور امریکا میں داخلے پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور قانونی کارروائیاں بھی کی جا سکیں گی۔
حکم نامے کے تحت امریکی وزیر خارجہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایسے ممالک کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔ تاہم اس میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی ملک حراست میں لیے گئے امریکی شہریوں کو رہا کر دے اور آئندہ اس نوعیت کی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت دے تو اس کی نامزدگی ختم کر دی جائے گی۔
یہ اقدام امریکی حکومت کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت بیرون ملک امریکی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی شہریوں
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔