وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور سیکیورٹی ادارے چینی عملے کی حفاظت کی ذمہ داری کو سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان انٹیلی جنس تعاون، معلومات کے تبادلے اور سیکیورٹی حکمتِ عملی میں رابطے جاری رہیں گے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اجلاس کے موقع پر صدر شی جن پنگ سے ملاقات میں سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی شہریوں کے تحفظ پر بات کی تھی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین سے پاک چین تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ گئے، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

عطا اللہ تارڑ نے وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کو تاریخی قرار دیا اور بتایا کہ ایس سی او اجلاس کے موقع پر ہونے والی بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں میں 900 کاروباری شخصیات کے درمیان 1.

5 ارب ڈالر کے جوائنٹ وینچرز اور 7 ارب ڈالر کے مفاہمتی معاہدے طے پائے۔

ان کے مطابق چینی سرمایہ کار ٹیکسٹائل، الیکٹرک گاڑیوں اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبوں میں اپنی صنعتیں پاکستان منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئندہ 6 ماہ کے دوران کئی منصوبے عملی شکل اختیار کر لیں گے اور پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم نے ملک میں نئے ڈیم بنانے کی حکمت عملی طے کرلی، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا تعلقات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ حال ہی میں دونوں ملکوں نے تجارتی معاہدے کے تحت پاکستانی برآمدات پر ٹیرف 29 فیصد سے گھٹا کر 19 فیصد کر دیا ہے۔

اسی ہفتے پاکستان اور امریکا نے 500 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت قیمتی معدنیات کے شعبے میں تعاون اور نئی ریفائنری کے قیام پر کام ہوگا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات آزاد اور منفرد نوعیت کے ہیں اور ایک تعلق دوسرے کی قیمت پر قائم نہیں کیا جا رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

SCO چینی عملے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چینی عملے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ وزیر اطلاعات عطا عطا اللہ تارڑ کہ پاکستان

پڑھیں:

طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری

افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

طالبان رجیم کے خلاف بغاوت   کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے  حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا  ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔

عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔  طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟