وزیر اعظم نے حالیہ سیلاب کے فوڈ سیکیورٹی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کےلیے کمیٹی تشکیل دے دی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ سیلاب سے زرعی پیداوار اور فوڈ سیکیورٹی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی جس کی سربراہی وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کریں گے۔
کمیٹی میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی، سیکریٹری خزانہ، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ پنجاب اور سندھ کے سیکریٹری زراعت، ڈی جی سپارکو، ڈی جی لینڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم اور احمد عمیر بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
کمیٹی بڑی فصلوں جیسے گنا، کپاس، چاول، مکئی اور سبزیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگائے گی۔ زرعی اجناس اور سبزیوں کی قیمتوں کے پچھلے آٹھ ماہ کے رجحانات کا تجزیہ بھی رپورٹ کا حصہ ہوگا۔
رپورٹ میں ایران، یو اے ای اور افغانستان سے درآمد شدہ سبزیوں کی دستیابی اور قیمت کے تخمینے بھی سامنے لائے جائیں گے۔
مزید برآں، مویشیوں اور چارہ جات کے نقصانات، برآمدات میں کمی اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جامع تجزیہ کیا جائے گا۔
کمیٹی وزیراعظم کو قلیل مدتی اقدامات اور حکمت عملی کی سفارشات بھی پیش کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔