موسمیاتی تبدیلی سے زرعی معیشت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی سے زرعی معیشت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ایکیومن پاکستان کی قیادت نے ملاقات کی جس میں موسمیاتی سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت خزانہ کے اعلامیہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ایکیومن پاکستان کی سی ای او اور کنٹری ہیڈ ڈاکٹر عائشہ خان نے اپنی ٹیم کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات کی۔
ایکیومن کی ٹیم نے وزیر خزانہ کو پاکستان کیلئے 9 کروڑ ڈالر مالیات کے ایگریکلچر ریزیلینس فنڈپر پیشرفت سے آگاہ کیا جو زراعت کے شعبے میں موسمیاتی اثرات سے بچاوٴ کیلئے ایک مخصوص قرض کی سہولت ہے۔
اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ ماحولیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلی سے زرعی معیشت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں۔
وزیر خزانہ نے زرعی لچک بڑھانے کیلئے جدید مالیاتی ماڈلز کی اہمیت پر زور دیا، جو موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے کیلئے قابل بنانے کے علاوہ خوراک کی حفاظت کو بہتر بنا سکتے ہیں اور دیہی روزگارمیں سہولت فراہم کرسکتے ہیں۔
وزارت خزانہ کے اعلامیہ کے مطابق اگلے ماہ ایکیومن بورڈ ممبران اور عالمی سرمایہ کاروں کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا وفد اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں سٹیک ہولڈرز سے ملاقات کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک