ایرانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ، 6 افغان جاں بحق، متعدد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
ایران افغانستان سرحد پر افغان تارکین وطن پر ایرانی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے سیدھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افغان جاں بحق، متعدد زخمی ہوگئے۔
ہیومن رائٹس آرگنائزیشن حال وش کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 6 افغان تارکینِ وطن ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب افغان شہری غیر قانونی طور پر ایران کی سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
واقعے کی تفصیلاتفائرنگ صوبہ سیستان میں اُس وقت ہوئی جب تقریباً 120 افغان شہری سرحد عبور کرنے کی کوشش میں تھے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی فورسز نے براہِ راست فائرنگ کی جس میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
واقعے کے بعد ایرانی سیکیورٹی فورسز نے تقریباً 40 افغان تارکینِ وطن کو حراست میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیے ایران کی جانب سے 11 لاکھ افغان مہاجرین کو بے دخل کردیا گیا
زخمیوں میں احسان اللہ تاجک، نصر اللہ بارکزاہی، حزب اللہ بارکزاہی، وائی بارکزاہی اور بشیر احمد بارکزاہی شامل ہیں۔
کئی زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔
سرکاری ردِ عملواقعے کے حوالے سے تاحال نہ ایرانی حکام اور نہ ہی افغان حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایران نے افغان سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیوں کیا؟
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ایران میں سرحد پار کرنے والے افغان شہری اکثر ایسے ہی خطرات سے دوچار ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال بھی ایرانی سرحدی علاقوں میں 300 سے زائد افغان تارکین وطن پر فائرنگ کی گئی تھی، جس میں متعدد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
یہ واقعہ ایران افغانستان سرحد پر جاری انسانی بحران کی ایک اور مثال ہے، جہاں غربت، بے روزگاری اور جنگ سے بھاگنے والے افغان شہری بہتر مستقبل کی تلاش میں جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران افغان بارڈر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران افغان بارڈر ایرانی سیکیورٹی فورسز افغان تارکین افغان شہری
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔